Input your search keywords and press Enter.

ہمیں ہر سال پانچ اگست کو نظربند کیوں کیا جاتا ہے، التجا مفتی

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم: جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلٰی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی کی مشیر اور دختر التجا مفتی نے پیر کے روز مودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کے خاندان کو دفعہ 370 کی منسوخی کی پانچویں برسی پر ’’غیر قانونی طور نظربند‘‘ رکھا گیا ہے۔ سماجی رابطہ گاہ ایکس پر التجا نے حکومت کی جانب سے کشمیر میں امن و امان کے دعووں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیر اتنا ہی نارمل ہے جتنا حکومت ہند دعوٰی کر رہی ہے، تو جموں و کشمیر انتظامیہ ہمیں ہر سال 5 اگست کو غیر قانونی طور پر نظربند کیوں کرتی ہے۔ التجا مفتی نے جموں و کشمیر پولیس کی بھی مذمت کرتے ہوئے لکھا ’’یہ غرور کی انتہا ہے کہ ایس ایچ او نوگام نے ہمیں ہمارے ہی اپنے گھر کے اندر ہمیں نظربند کر دیا ہے اور (مرکزی دروازے) کی چابیاں اپنے ساتھ لے گئے، (یہ) پولیس والے ہیں یا نئے دور کے جیلر۔؟ آپ فیصلہ کریں‘‘۔

 

ادھر ان کی والدہ اور محبوبہ مفتی نے ابھی تک صورتحال پر کوئی بھی تبصرہ نہیں کیا ہے اور پولیس نے بھی کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ التجا مفتی نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کے ساتھ اپنی نوگام رہائشگاہ کی تصاویر بھی شیئر کیں۔ قبل ازیں جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے لیڈر تنویر صادق نے بھی دعوٰی کیا کہ انہیں آرٹیکل 370 کی منسوخی کی پانچویں برسی کے موقع پر گھر میں نظربند کر دیا گیا تھا۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں تنویر صادق نے کہا کہ انہیں بغیر کسی وجہ کے گھر میں حراست میں رکھا گیا تھا۔ انہوں نے کہا ’’مجھے کسی کام کے لئے نکلنا تھا، لیکن میرے دروازے کے باہر پولیس والوں نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا، یہ غیر ضروری اور غیر قانونی ہے‘‘۔ واضح رہے کہ ان دعوؤں اور الزامات پر تاحال انتظامیہ کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے