Input your search keywords and press Enter.

روح اللہ مہدی اور دیگر کا بڑی تعداد میں کشمیری نوجوانوں کی گرفتاری پر شدید ردعمل

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کے رہنما اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن روح اللہ مہدی اور دیگر کشمیری رہنماوں نے بھارتی فورسز کے اہلکاروں کی طرف سے بڑے پیمانے پر نوجوانوں کی پکڑ دھکڑ کو ”اجتماعی سزا“ قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق روح اللہ مہدی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اس طرح کے ہتھکنڈوں کو سکیورٹی اقدامات قرار دینا ہرگز جائز نہیں بلکہ یہ ایک اجتماعی سزا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندانوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔ روح اللہ مہدی نے خبردار کیا کہ خوف و دہشت کے بل پر قائم حکمرانی اپنی قانونی جوازیت کھو دیتی ہے۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے رہنما محمد یوسف تاریگامی نے ایک بیان میں کہا کہ پوری کمیونٹی کو اجتماعی سزا کا نشانہ بنانا غیر منصفانہ اور ناقابل قبول ہے۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما التجا مفتی نے سرینگر میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مقبوضہ وادی کشمیر کے متعدد اضلاع میں نوجوان کی گرفتاری پر وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کی خاموشی پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ نہ صرف کولگام بلکہ بڈگام اور گاندربل میں بھی لڑکوں کو اٹھایا جا رہا ہے اور میں حکومت سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا یہ سب عسکریت پسند ہیں، سب کو شک کی نگاہ سے کیوں دیکھا جا رہا ہے، یہ غلط ہے۔ التجا مفتی نے کہا کہ ”میں نیشنل کانفرنس کی حکومت سے پوچھنا چاہتی ہوں، جسے اکثریت کے ساتھ اقتدار میں لایا گیا ہے، آپ خاموش کیوں ہیں۔ آپ نے 50 ایم ایل اے کے ساتھ حکومت بنائی، آپ کو بولنا چاہیے۔“
انہوں نے کہا کہ وادی کے کولگام، بڈگام اور گاندربل اضلاع میں 500 نوجوان لڑکوں کو پکڑا گیا ہے لیکن نیشنل کانفرنس کے وزرا خاموش ہیں جو افسوسناک ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے