سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے شب برات کے موقع پر کشمیریوں کو تاریخی جامع مسجد سرینگر میں عبادات اور نوافل کی ادائیگی سے روکنے اور سینئر حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق کی گھر میں نظربندی کی مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں شب برات کے موقع پر جامع مسجد کو مقفل کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قابض انتظامیہ کے اس اقدام سے کشمیری مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ انہوں نے کشمیری مسلمانوں کو شب برات جیسے مواقع پر عبادات سے روکنے اور جامع مسجد میں اکٹھے ہونے سے روکنے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکے عوام نے کشمیر کاز اور اپنے حق خودارادیت کے حصول کیلئے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے ندرونی اور بیرونی محاذوں پر اپنے موقف کو پیش کرنے پر آزادی پسند کشمیری عوام اور غیر قانونی طور پر نظر بند رہنمائوں اور کارکنوں کی ثابت قدمی کی تعریف کی۔انہوں نے کہا کہ نئی دلی کے مقررکردہ لیفٹیننٹ گورنر جی منوج سنہا کی قیادت میں بھارتی فورسز نے رمضان المبارک کے قبل ہی بے گناہ کشمیریوں کے خلاف اپنے ظلم و جبر کاسلسلہ تیز کر دیا ہے۔ حریت ترجمان نے مقبوضہ علاقے میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے کشمیریوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاریوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ کشمیر مخالف ایجنڈے اورمقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں رکوانے اور مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کرانے بھارت پر دبائو ڈالے ۔انہوں نے عالمی برادری سے ہزاروں کشمیری سیاسی نظربندوں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔
شب برات کے موقع پر جامع مسجد سرینگر میں کشمیریوں کو عبادات سے روکنے کی مذمت
