سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سیاسی رہنماوں نے بھارتی پولیس کی طرف سے سرینگر میں ایک تلاشی آپریشن کے دوران معروف عالم دین اور جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی اور تحریک آزادی جموں و کشمیر کے عظیم قائد سید علی گیلانی مرحوم کی سینکڑوں تصانیف ضبط کرنے کی شدید مذمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس نے گزشتہ روز تلاشی آپریشن کے دوران 6 سو سے زائد کتابیں ضبط کی تھیں۔ نیشنل کانفرنس کے سینئر رہنما اور بھارتی پارلیمنٹ کے رکن روح اللہ مہدی نے ایکس پر ایک بیان میں دینی تصانیف کی ضبطگی کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ کشمیری مسلمانوں کے دینی معاملات میں بھی بڑے پیمانے پر مداخلت کی جا رہی ہے، یہ صریح ریاستی جبر اور عدم برداشت ہے، کیا اب یہ حکم دیا جائے گا کہ کشمیری کیا پڑھیں اور سیکھیں؟۔ روح اللہ نے شب برات پر جامع مسجد کو سیل کرنے کی بھی مذمت کرتے ہوئے اسے مذہبی آزادی پر حملہ قرار دیا۔ دریں اثنا پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی رہنما التجا مفتی نے کتب ضبط کیے جانے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیریوں کے خلاف پے در پے جابرانہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب تو لوگوں کو کتابیں پڑھنے اور معلومات حاصل کرنے سے بھی روکا جانے لگا ہے۔
سرینگر، دینی کتب ضبط کیے جانے کی مذمت
