سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ بھارتیہ جنتا پارٹی کی بھارتی حکومت نے کشمیریوں کے خلاف اپنا کریک ڈاؤن مزید تیز کرتے ہوئے مزید تین مسلمان ملازمین کو برطرف جبکہ ایک اور کشمیری کی املاک ضبط کر لی ہیں۔ ذرائع کے مطابق نئی دلی کے مسط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے مقامی پولیس کانسٹیبل فردوس احمد بٹ، معلم محمد اشرف بٹ اور محکمہ جنگلات کے ملازم نثار احمد خان کو برطرف کر دیا ہے۔ برطرف شدہ ملازمین جھوٹے الزامات کے تحت پہلے ہی مختلف جیلوں میں بند ہیں۔ انتظامیہ نے ضلع بارہمولہ کے ایک رہائشی کا مکان، پولٹری فارم اور دو کنال اراضی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے” کے تحت ضبط کر لی ہیں۔ دریں اثناء بھارتی پولیس نے سرینگر میں کتب فروشوں کے خلاف کریک ڈائون کرتے ہوئے 6 سو سے زائد دینی کتب ضبط کر لی ہیں۔ ضبط شدہ تصانیف میں جماعت اسلامی کے بانی ابوالاعلیٰ مودودی، امین احسن اصلاحی اور تحریک آزادی کشمیر کے معروف قائد سید علی گیلانی شہید کی تصانیف شامل ہیں۔بھارت نے مقبوضہ علاقے میں جماعت اسلامی سمیت کئی آزادی پسند جماعتوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
ادھر کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنمائوں اور تنظیموں نے سرینگر میں منعقدہ ایک اجلاس کے دوران ممتاز حریت رہنما شہید غلام محمد بھلہ کو ان کے 50 ویں یوم شہادت پر شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے بھارتی مظالم کے خلاف ان کی غیر متزلزل جدوجہد کو سراہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جدوجہد آزادی میں کشمیریوں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ بھارتی پولیس نے غلام محمد بھلہ کو فروری 1975ء میں اندرا عبداللہ معاہدے کے خلاف احتجاج کی قیادت کرنے پر گرفتار کیا اور 15 فروری کو سرینگر سینٹرل جیل میں وحشیانہ تشدد کر کے بے دردی سے شہید کر دیا۔
