سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز کے چیئرمین الطاف حسین وانی نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مورس ٹڈ بال بنز Morris Tidball Binz’s سے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کے ہاتھوں تشدد اور حراستی ہلاکتوں کے بڑھتے ہوئے واقعات کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق الطاف حسین وانی نے لکھا ”مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض فورسز کی طرف سے حراستی تشدد کا مسلسل اور منظم استعمال بنیادی انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دوران حراست تشدد جبر کا ایک ایسا ہتھکنڈہ ہے جو جبری اعترافات، لوگوں کو ڈرانے دھمکانے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، یہ عمل انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے اور بین الاقوامی معاہدے کے ساتھ ساتھ آر سی پی اور پولیٹیکل آرگنائزیشن کے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے۔“ انہوں نے ایک کشمیری نوجوان مکھن دین کے حالیہ قتل کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ جموں و کشمیر کے کٹھوعہ ضلع سے تعلق رکھنے والے اس 25 سالہ شخص کو بھارتی پولیس نے دوران حراست وحشیانہ تشدد کر کے شہید کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز کو کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کے تحت بے لگام اختیارات حاصل ہیں اور بے گناہ شہریوں کے قتل پر ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جاتی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم پر بھارت کو جواب دہ ٹھہرائیں۔
الطاف وانی کا اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے نام خط
