سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ بھارت ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان کے کشمیر کے بارے میں حالیہ بیان پر سخت تلملا اٹھا ہے۔بھارتی وزارت خارجہ نے نئی دلی میں ترک سفیر کو طلب کر کے اس حوالے سے اپنا احتجاج درج کرایا۔ ذرائع کے مطابق اردگان نے اپنے حالیہ دورہ اسلام آباد کے دوران مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت کا بھرپور اعادہ کرتے ہوئے اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا تھا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ وار بریفنگ میں اردگان کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ”ہم بھارت کے اندرونی معاملات پر اس طرح کے ریمارکس کو مسترد کرتے ہیں ہم نے ترک سفیر تک اپنا احتجاج پہنچایا ہے، بھارت کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری پر کوئی بھی غیر ضروری تبصرہ ناقابل قبول ہے”۔ رندھیر جیسوال نے بھارت کی یہ رٹ بھی دہرائی کہ جموں و کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے۔ یاد رہے کہ اگر کوئی جموں و کشمیر کے بارے میں حقیقت پسندانہ موقف اپناتا ہے تو دنیا کا سب سے بڑا نام نہاد جمہوری ملک بھارت ہمیشہ تلملا اٹھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جموں کشمیر عالمی سطح پر ایک متنازعہ خطہ ہے، بھارت نے اس کے ایک بڑے حصے پر غیر قانونی طور پر قبضہ جما رکھا ہے اور وہ کشمیریوں کی آواز کو دبانے کیلئے ان پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔بھارت کی بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا یہ ہے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق، حق خودارادیت دینے کے بجائے جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے رہا ہے۔
بھارت ترکیہ کے صدر کے کشمیر پر حالیہ بیان سے تلملا اٹھا
