سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فورسز نے کشمیریوں کو خوف و دہشت کا شکار کرنے کیلئے اپنی سرگرمیوں میں تیزی لائی ہے۔ ذرائع کے مطابق سول سوسائٹی کے ارکان نے بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سرگرمیاں بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کے حالیہ بیان کے برعکس ہے جس میں کہا گیا تھا کہ علاقے میں صورتحال قابو میں ہے۔ بھارتی سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کے ڈائریکٹر جنرل جی پی سنگھ نے حال ہی میں جنوبی کشمیر کے کوکرناگ اور پلوامہ میں تعینات فورسز کیمپوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے کوکرناگ میں تعینات سی آر پی ایف کی 164 بٹالین ہیڈکوارٹر کے اپنے دورے کے دوران فعال اقدامات اور انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز پر زور دیا۔ انہوں نے سی آر پی ایف اور بھارتی فوج کے درمیان زیادہ ہم آہنگی اور رابطوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ سول سوسائٹی کے اراکین نے کہا کہ سنگھ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی فورسز کالے قوانین ”پی ایس اے، یو اے پی اے“ کے تحت گرفتاریوں میں سرعت لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فورسز کی ان کارروائیوں کا مقصد کشمیریوں کے مزاحمتی جذبے کو دبانا ہے۔
دریں اثنا، وائٹ نائٹ کور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نوین سچدیوا نے فوجیوں کے حوصلے بڑھانے کے لیے راجوری کا دورہ کیا۔ یہ دورہ بھی یہی بات ظاہر کر رہا ہے کہ بھارتی فورسز جموں خطے کے اضلاع راجوری، پونچھ وغیرہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں میں مزید تیزی لانے کی تیاری کر رہی ہے۔ بھارتی فوج کے اعلیٰ افسران نے کریک ڈاﺅن کی کارروائیوں کو موثر و مضبوط بنانے کیلئے رام بن کے دھرمنڈ فوجی چھاونی میں ایک اہم اجلاس کیا۔ سول سوسائٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ بھارتی فورسز کی ان تمام تیاریوں کا مقصد مقامی مزاحمت کو کچلنا، اختلاف رائے کو خاموش کرنا اور متنازعہ علاقے پر غیر قانونی بھارتی کنٹرول کو مضبوط کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر اس وقت دنیا کا سب سے بڑا فوجی تعیناتی والا خطہ بن چکا ہے جہاں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کسی کی بھی جان، عزت و آبرو اور املاک محفوظ نہیں۔ سول سوسائٹی کے ارکان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں کو ایک منظم طریقے سے نشانہ بنانے کی بھارتی کارروائیوں کا نوٹس لے۔
