Input your search keywords and press Enter.

بھارتی حکومت اپنے ہندوتوا ایجنڈے کے ذریعے کشمیر کے زمینی حقائق ہرگز تبدیل نہیں کر سکتی، حریت کانفرنس

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے کہا ہے کہ بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت اور علاقے میں اس کی مسلط کردہ انتظامیہ ہندوتوا کے اپنے مذموم ایجنڈا کے ذریعے یہاں کے زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ اگست 2019ء کے بعد کشمیری عوام کے نہ صرف شہری اور قانونی حقوق چھین لیے گئے ہیں بلکہ ان کے بنیادی انسانی اور مذہبی حقوق کو بھی منظم طریقے سے پامال کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر ایک حقیقت ہے اور بھارت کو ایک نہ ایک دن اس کے حل کی طرف آنا ہی پڑے گا۔ بیان میں بی جے پی رہنما سنیل شرما کی طرف سے نام نہاد اسمبلی میں تقریر کے دوران 13 جولائی 1931ء کے شہداء کے خلاف اشتعال انگیز ریمارکس کی شدید مذمت کی گئی۔ ترجمان نے کہا کہ 13 جولائی 1931ء کے شہداء کشمیریوں کے ہیرو ہیں جنہوں نے جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے حقوق اور وقار کے لیے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔

کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان نے غیر قانونی طور پر نظربند حریت رہنمائوں اور کارکنوں کو قانونی اور طبی دیکھ بھال سمیت بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اکثر نظربند مختلف امراض کا شکار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈکراس سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیری نظربندوں کی حالت زار کا فوری نوٹس لیں اور ان کی فوری رہائی کے لیے کردار ادا کریں۔ ترجمان نے اقوام متحدہ پر بھی زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں انسایت کے خلاف جرائم پر بھارت کا محاسبہ کرے اور تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے اس پر دباﺅ ڈالے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے