سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فورسز نے حریت پسندوں کے گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کا سلسلہ آج بھی جاری رکھا۔ ذرائع کے مطابق بھارتی فورسز نے بانڈی پورہ کے علاقے نائد کھائی، شوپیان، ہندواڑہ، بڈگام کے علاقوں دہرمونہ، وارپورہ، بدرن، کائوسہ خالصہ اور بزگو میں جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی، تحریک حریت جموں و کشمیر، مسلم لیگ اور پیپلز فریڈم لیگ کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے۔ چھاپوں کے دوران بھارتی فورسز نے مکینوں کو ہراساں کیا اور مکانوں کے کاغذات، بنک دستاویزات اور موبائل فون ضبط کر لئے۔ نئی دہلی کی طرف سے مسلط کردہ فرقہ پرست لیفٹننٹ گورنر منہاج سنہا کی سربراہی میں قابض انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ افراد حق خودارادیت کی جدوجہد اور بھارتی تسلط سے آزادی کے مطالبے کی حمایت کر رہے ہیں۔ گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران کارکنوں کے اہل خانہ کو ہراساں اور خوفزدہ کیا گیا اور تحریک آزادی کی حمایت نہ کرنے کی تنبیہ کی گئی۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالزشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں بھارتی فورسز کے چھاپوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قابض حکام کشمیری عوام کے جذبہ حریت کو ختم کرنے کے لئے اس طرح کے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں لیکن وہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کشمیری عوام حق خودارادیت کے حصول تک اپنی جدوجہد ہر قیمت پر جاری رکھیں گے اور بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر سے نکل جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔
