سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ نے بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں قابض انتظامیہ کی جانب سے سینئر حریت رہنما محمد فاروق رحمانی کی کروڑوں روپے مالیت کی آبائی جائیداد ضبط کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سراسر غیر قانونی، غیر آئینی اور جبرواستبداد پر مبنی اقدامات ہیں اور کشمیری عوام پر ظلم و جبر کا تسلسل ہے۔ ذرائع کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سکریٹری اطلاعات مشتاق احمد بٹ نے اسلام آباد سے جاری بیان میں کہا کہ اس سے پہلے بھی سینکڑوں کشمیریوں کی جائیدادیں قابض انتظامیہ سربمہر کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے عظیم و مقدس مہینے میں بھی بھارتی ایجنسیوں کی طرف سے حریت قائددین و کارکنوں، ذرایع ابلاغ کے کشمیری نمائندوں اور انسانی حقوق سے وابستہ افراد کے گھروں پر مسلسل چھاپوں کی وجہ سے پوری وادی کو دہشت زدہ بنا دیا گیا ہے، چادر اور چار دیواری کا تقدس اس عظیم مہینے میں بھی پامال کیا جا رہا ہے جو کہ انتہائی قابل افسوس ہے۔
انہوں نے بھارت کی طرف سے انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں، گھروں اور زمینوں سے مکینوں کو بے دخل کرنے اور کشمیریوں کی زمینیں غیر ریاستی باشندوں کو دینے پر نہایت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سراسر غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانیں کی خلاف ورزی ہے جس کا اقوام متحدہ کو فوری نوٹس لینا چاہیے اور بھارت کو ایسا کرنے سے باز رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کشمیری ایک امن پسند قوم ہے اور بھارت انہیں محض اس وجہ سے نشانہ بنا رہا ہے کیونکہ وہ اپنے پیدائشی حق، حق خودارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ بھارتی حکمران مذہبی تعصب کی بنیاد پر کشمیریوں کی پرامن تحریک آزادی کشمیر کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کے لیے انتہائی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔
کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں و کشمیر شاخ کے سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ یہ بات نوشتہ دیوار ہے کہ بھارت اوچھے ہتکھنڈوں سے آزادی پسند کشمیری عوام کی آواز کو ہرگز دبا نہیں سکتا، کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ شہداء کے مشن کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔ انہوں نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ کشمیر میں جاری وحشیانہ بھارتی مظالم کو روکنے میں اپنا کردار ادا کریں اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق حل کیلئے بھارت پر دباﺅ ڈالیں۔
