Input your search keywords and press Enter.

انتظامیہ نے دو کشمیریوں کی 10کنال سے زائد زرعی اراضی ضبط کر لی

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے ماتحت انتظامیہ نے کشمیری مسلمانوں کی املاک کی ضبطگی کا مذموم سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ضلع رام بن میں دو کشمیریوں کی 10 کنال اور 18 مرلوں پر مشتمل زرعی اراضی ضبط کر لی ہے۔ ذرائع کے مطابق ضلع کے گاﺅں دلواہ کے رہائشی محمد شریف اور موہڑہ ہرا گائوں کے محمد یونس کی اراضی غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یو اے پی اے“ کے تحت ضبط کی گئی۔ محمد شرف کی 7کنال 3مرلے جبکہ محمد یونس کی 3کنال 15مرلے ارضی ضبط کی گئی۔ انتظامیہ نے ان کی اراضی کی ضبطگی کا جواز فراہم کرنے کیلئے ان پر بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔ یاد رہے کہ اگست 2019ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد مودی حکومت نے کشمیری مسلمانوں کے مکانوں، زرعی اراضی، باغات اور دیگر املاک کی ضبطگی کا سلسلہ تیز کر دیا ہے جس کا واحد مقصد انہیں مفلوک الحال بنانا اور ضبط شدہ جائیدادیں غیر کشمیری بھارتی ہندوﺅں کو دیکر علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے