سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر): سول سوسائٹی کے اراکین نے اقوام متحدہ، یورپی یونین اور اسلامی تعاون تنظیم پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں قابض بھارتی فوج اور ہندوتوا بی جے پی حکومت کی طرف سے بڑے پیمانے پرجاری انسانی حقو ق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں ۔
سپورٹ کشمیر میڈیا کے مطابق ان خیالات کا اظہار مقررین نے سرینگر میں ”5اگست 2019کے بعد جموں و کشمیرکی صورتحال ” کے موضوع پر سول سوسائٹی کے ارکان کے اجلاس کے دوران کیا۔ڈاکٹر زبیر احمد راجہ، محمد فرقان، محمد اقبال شاہین اور سید حیدر حسین سمیت سول سوسائٹی کے اراکین نے سرینگر میں ایک اجلاس میں دفعہ 370اور 35-Aکی ان کی اصل شکل میں بحالی ،بھارتی فوجیوںکی طرف سے نہتے کشمیریوں پر ڈھائے جانیوالے مظالم کاسلسلہ بندکرانے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے فوری حل کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال کو روکنے کے لیے بھارتی حکومت پر دبائو بڑھایاجاناچاہیے۔مقررین نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی زیر قیادت قابض انتظامیہ کی طرف سے جموں میں ایک نوجوان کی جعلی مقابلے میں شہادت اور سوپور میں ایک نوجوان کی جائیدادکی ضبطگی کی شدید مذمت کی ۔انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کے جذبہ حریت کو کمزور کرنے کیلئے انہیں انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایاجارہاہے۔انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ علاقے میں جاری خونریزی کا فوری نوٹس لیں۔
