سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر): بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر کے گرمائی دارلحکومت سرینگر کے نواحی علاقے داچھی گام میں بھارتی قابض فورسز نے ایک جعلی مقابلہ میں مبینہ طورپر تین نوجوانوں کو شہید کرکے انھیں 22اپریل کو پہلگام فالس فلیگ آپریشن میں ملوث حملہ قرار دیدیاہے۔
کشمیرمیڈیا کے مطابق بھارتی میڈیا نے اپنی روش جاری رکھتے ہوئے واقعے کے بعد بغیر کسی ثبوت یا تصدیق کے ایک بار پھر پاکستان اور کشمیریوں کے خلاف الزام تراشی شروع کر دی ہے اور تینوں مقتولین کی شناخت کے بغیر ہی انہیں پہلگام واقعے کا مجرم قرار دیاجارہاہے۔ بھارت نے ایسا خونی ڈرامہ رچانا ہی تھا کیونکہ اپوزیشن کی تنقید اور عالمی سطح ہونے والی بدنامی سے بچنے کیلئے فیک انکائونٹر کرنا اور ان پر جھوٹا بیانیہ گھڑنا بھارت کا پرانا وطیرہ ہے۔ پہلگام فالس فلیگ آپریشن اور اسکے آپریشن سندور کی ناکامی اورمودی حکومت پر ہونے والی کڑی تنقید کے بعد اس طرح کے واقعے کا خدشہ ظاہر کیاجارہاتھا۔بھارت میں ہر اعتدال پسند شخص ، معتبر صحافیوں، تجزیہ کاروں، اپوزیشن جماعتوں یہاں تک کہ بی جے پی کے بعض اپنے رہنمائوں اور سابق فوجی جرنیلوں نے پہلگام واقع سے متعلق بے شمار سوالات اٹھائے جن سے خود مودی حکومت اور بھارتی فوج کا چہرہ بے نقاب ہورہا تھا۔ کانگریس پارٹی کے سینئر رہنماء پی چدم برم نے پلوامہ ، ممبئی، پٹھانکوٹ اور دیگر بے شمار واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان تمام واقعات میں بھارتی فورسز اور ایجنسیز کی ناکامی ا ور مشکوک کردار سامنے آیاہے مگر پھر بھی الزام پاکستان پر دھرا گیا۔عدالت کی طرف سے ممبئی دھماکوں میں 12مسلمانوں کی 19سال بعد بے گناہ قرار دیکر رہائی سے ثابت ہوتاہے کہ کس طرح بھارتی حکمران اور ایجنسیاں کشمیریوں کی جائز تحریک آزادی اور پاکستان کے خلاف جھوٹا بیانیہ بنانے کیلئے بے گناہوں کو اپنے پروپیگنڈہ اور فسطائیت کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔مبصرین کے مطابق جس طرح آپریشن سندور بھارت کیلئے گلے کی ہڈی بن گیاہے، داچھی گام میںآپریشن مہا دیو کے تحت جعلی مقابلے میں تین نوجوانوںکا قتل ایک سیاسی و عسکری پروپیگنڈہ کا حصہ ہے، جس کا مقصد پہلگام واقعے سے توجہ ہٹانا اور پاکستان کوبدنام کرنا ہے ۔
