مقبوضہ کشمیر میں ’’ظالم ‘‘ کا چہرہ بے نقاب ہو چکا ۔۔۔ وادی میں قیامت کا دُکھ ہے۔۔۔ اپنے بے قصور نہتے بچوں کے غموں میں ڈوبے کشمیری ’’ظالم ‘‘ کی ڈوبتی کشتی کو اُچھالا دے رہے ہیں ۔۔۔’’ظالم ‘‘ مظلوموں کی قربانیاں دیکھ کر بوکھلا اور سٹپٹا چکا ہے اور اب خود اپنی وکالت سے خائف ہے۔۔۔ انتہا پسند مودی حکومت کیخلاف صرف پاکستان سے ہی نہیں دنیا بھر سے بلکہ خود بھارت کے اندر سے انصاف پسند آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔۔۔۔
دنیا ’’ظالم ‘‘کا چہرہ دیکھ رہی ہے اور اپنی مجرمانہ خاموشی توڑنے پر مجبور ہو چکی ہے ۔۔۔ شدید بوکھلاہٹ کی شکار مودی حکومت کی حالت ایسی ہے کہ ’’جائیں تو جائیں کہاں ‘‘ اندر باہر ہر جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہے ۔ ۔ ۔ کشمیر کی جدوجہد آزادی کی مظلوم تاریخ کو دنیا کے کونے کونے سے’’سلام ‘‘ پیش کیا جا رہا ہے ۔۔۔مودی حکومت ہو سکے تو ان لفظوں ، نعروں ، تحریروں، آوازوں اور جذبوں کو روک لے ۔۔۔ یہ سلسلہ رُکے گا نہیں بڑھے گا اور اس کا رُخ کسی اور جانب نہیں صرف اور صرف بھارت کی جانب ہے ۔یہ حالات پیدا کئے ہیں انتہا پسندہندو راشٹر واد نظرئیے نے جو صرف خود جینے اور دوسروں کا جینا حرام کرنے کی بات کرتا ہے ۔بھارت کو مجرموں کی طرح عالمی ضمیر کی عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کرنیوالا کوئی اور نہیں بلکہ بی جے پی کا انتہا پسند نظریہ اور ظلم پر مبنی ہندوتوا ایجنڈا ہے۔۔۔۔بی جے پی نے صرف مقبوضہ کشمیر پر ہی ظلم نہیں کیا بلکہ بھارت کی گنگا جمنی تہذیب کا چہرہ مسخ کیا۔۔۔سیکولر امیج تباہ کر ڈالا۔دنیا نے دیکھ اور سمجھ لیا کہ انتہا پسند ہندوراشٹرواد مودی حکومت کانشانہ بظاہر مقبوضہ کشمیر اور پاکستان ہیں لیکن اس کی زد میں آیا عالمی انصاف اور وقار کا نظام ۔۔۔۔آج کی تحریر میں مختصر جائزہ پیش کیا جائیگا کہ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ، لاک ڈائون، ظلم اور نا انصافی کو دنیا بھر میں جاری احتجاجی مظاہروں اور انصاف پسند آوازوں نے کیسے روندا ۔۔۔ٹھکرایا ۔۔۔اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا
برطانوی نشریاتی ادارے کامقبوضہ کشمیر کی مخدوش صورتحال پرخصوصی تبصرہ
٭:برطانوی نشریاتی ادارے کے خصوصی تبصرے کے مطابق کشمیر کے مخصوص تشخص کے خاتمے سے بھارت کی چال اُلٹی پڑ گئی ، مودی حکومت نے بھارت کے کمزور وفاقی ڈھانچے کو کاری ضرب لگا دی ۔نئے مرکزی خطوں جموں و کشمیر ، لداخ پر دلی سے براہ راست حکومت ہو گی ۔وفاق ریاستوں کے مقابلے یونین کے علاقوں کو کم خود مختاری دیتا ہے۔بیشتر ماہرین فیصلے کو بھارت کے کمزور وفاقی ڈھانچے کو شدید دھچکے سے عبارت کر رہے ہیں ۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیلئے آبادی سے مشورہ نہیں کیا گیا ۔کشمیر جیسا اقدام بھارت کے وفاقی نظام پر بدنما داغ ہے۔مرکز ریاستوں کے مقتدر اختیار میں چھیڑ چھاڑ نہیں کر سکتا ۔ برطانوی نشریاتی ادارے نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دلچسپ ہو گا کہ عدالت کشمیر کے فیصلے پر قانونی چیلنجز سے کیسے نمٹتی ہے۔سکالر ننوت چڈھا بہیرا کہتے ہیں کہ بھارت میں جمہوری اصولوں کو ختم کیا جا رہا ہے زیادہ پریشان کن یہ ہے کسی دوسری ریاست سے ایسا ہو سکتا ہے۔دوسری جانب برطانوی جریدہ ’’گارجین ویکلی‘‘ اپنے سرورق پر مسئلہ کشمیرکا معاملہ ’’کریک ڈائون ، بلیک آئوٹ اور اب آئندہ کیا؟ کے عنوان سے شائع کریگا۔ برطانوی جریدے کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فوری بعد دنیا کے سب سے زیادہ فوجی اہلکاروں والے علاقے ’’کشمیر‘‘ میں ہر طرف خوف پھیل چکا ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ5اگست کے بعد صرف 2 ہفتوں میں 4 ہزار کشمیریوں کو گرفتار کیا گیاحراستی مراکز میں جگہ کم پڑ گئی ہے، بیشتر کشمیریوں کو مقبوضہ وادی سے باہر قید کیا گیا ۔ وادی کی خود مختاری سلب کر نے کے بعد بھارت مسلسل اس خوف میں مبتلا ہے کہ کشمیر میں اس کیخلاف بدامنی کی صورتحال نہ پیدا جائے ۔ کشمیریوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا ہے جو ایک متنازعہ قانون ہے اور اسکے تحت کشمیری باشندوں کو 2 سال تک بغیر کسی الزام اور ٹرائل کے قید کیا جا سکتا ہے۔دوسری طرف بھارتی حکام کی جانب سے مسلسل انکار کیا جا رہا ہے کہ کتنے کشمیریوں کو گرفتار کیا گیا ہے، اس کے برعکس ابتدائی چند دنوں میں 100 سے زائد مقامی سیاستدانوں، ایکٹوسٹس اور ماہرین تعلیم کو گرفتار کیا گیا تھا۔ سری نگر میں پولیس اور سیکیورٹی عملے سمیت حکومتی افراد نے بھی بے شمار کشمیریوں کی اندھا دھند گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ سری نگر میں 6 ہزار گرفتار کشمیریوں کا مختلف مقامات پر طبی معائنہ کرایا گیا۔ گرفتار شدگان کو پہلے سری نگر جیل میں رکھا گیا بعد ازاں فوجی طیاروں میں کشمیر سے باہر لے جایا گیا۔ بہت سارے کشمیری پولیس اسٹیشنز میں بھی ہیں جن کی تعداد ان 4 ہزار کشمیریوں سے الگ ہے۔
چین کے میڈیا نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے حالیہ اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صورتحال بھارت کا داخلی معاملہ نہیں ۔ بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکرکا دورہ چین طے شدہ تھاتاہم بہت سے مبصرین نے اسے ایمرجنسی دورہ قرار دیا کیونکہ یہ دورہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے خصوصی دورے کے بعد کیا گیا۔بھارتی وزیر خارجہ کے دورے کو ’’غیر سودمند‘‘قرار دیا جارہا ہے۔چینی حکمران جماعت کے اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق وزیر خارجہ وانگ یی نے بھارتی ہم منصب سے کہا ’’چین کا ماننا ہے کہ کوئی بھی یکطرفہ اقدام جس سے مقبوضہ کشمیر کے حالات خراب ہوں نہیں کیے جانے چاہئیں۔‘‘ گلوبل ٹائمز نے اپنے ادارئیے میں لکھا کہ سرحدی تنازعات کے بارے میں بھارت کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے۔ بھارت پڑوسی ممالک کو چیلنج کرتا رہتا ہے اور ساتھ میں اسے توقع ہے کہ یہ ممالک اس کے اشتعال انگیز روئیے کو برداشت کر لیں گے۔ آرٹیکل 370کے خاتمے پر پاکستان کے جوابی اقدامات فطری عمل ہیں۔ اگر مسلمان بھارتی اقدامات کی اجتماعی مخالفت کریں تو بھارت کیلئے صورتحال پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا۔ بھارت کے پاس سیاسی اور دیگر وسائل نہیں کہ وہ مقبوضہ وادی پر قبضہ برقرار رکھ سکے۔حالات یہی رہے تو پاک، بھارت کشیدگی سے پہلے ہی سے موجود حساس صورتحال مزید بگڑ جائے گی۔
’’6ہزار سے زائد نا معلوم قبریں‘‘ آسٹریلوی صحافی کی چشم کشا رپورٹ
آسٹریلیا کے معروف کالم نویس سی جے ورلیمان نے مقبوضہ کشمیر میں ناانصافیوں، ظلم و تشدد اور غیر انسانی سلوک کو سوشل میڈیا پر بے نقاب کیا ۔’’مڈل ایسٹ آئی‘‘ اور’’ بائی لائنز‘ ‘کے کالم نویس سی جے ورلیمان نے ’’بھارتی قبضے کے تحت کشمیر میں زندگی‘‘ کے عنوان سے ہوشربا اعداد و شمار ٹوئٹر پر شیئر کیے ان کے مطابق مقبوضہ وادی میں ہر 10کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی تعینات ہے ، 6 ہزار سے زیادہ نامعلوم قبریں یا اجتماعی قبریں دریافت ہوچکی ہیں یہ ان لوگوں کی قبریں ہیں جنہیں بھارتی فورسز نے ’’غائب‘‘ کیا تھا ، اس کے علاوہ 80 ہزار سے زائد بچے یتیم ہوچکے ہیں ، مسلسل ظلم و ستم اور تنائو کے باعث 49 فیصد بالغ کشمیری پی ایس ٹی ڈی نامی دماغی مرض کا شکار ہوچکے ہیں۔جن متنازع علاقوں میں سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں جنسی تشدد کی شرح سب سے زیادہ ہے ان میں مقبوضہ کشمیر بھی شامل ہے بھارتی فورسز تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کررہی ہیں۔ 7 ہزار سے زیادہ زیر حراست ہلاکتیں بھی ہوچکی ہیں۔سی جے ورلیمان کے مطابق مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی 18قراردادیں موجود ہیں اور کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کیا گیا لیکن بھارت یہ سب ماننے کو تیار نہیں ۔
تاریخ مٹانے کی کوشش۔۔۔ بڑے پیمانے پر تشدد کا خدشہ
سابق امریکی نائب وزیرخارجہ رچرڈ بائوچرکے مطابق مقبوضہ کشمیر کی حیثیت ختم کرنیکا بھارتی اقدام بدترین اور تاریخ مٹانے کی کوشش ہے۔ بھارت کا یہ اقدام حق خوداختیاری کو ختم کرنے کی چال ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیرمیں حقیقتاً مارشل لا ء لگا دیا ہے۔ پاکستان کاکس کی چیئر پرسن کانگریس رکن شیلا جیکسن کہتی ہیں کہ ایٹمی قوتوں کے مابین قیام امن کیلئے سلامتی کونسل جنگی بنیادوں پر اقدامات کرے۔ دوسری جانب امریکی جریدے فارن پالیسی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد نہ صرف کشمیریوں اور بھارت کے درمیان خلیج مزید بڑھے گی بلکہ بڑے پیمانے پر تشدد کا بھی خدشہ ہے۔ یہ بات بالکل واضح محسوس ہوتی ہے کہ آرٹیکل 35 اے کا خاتمہ مسلم اکثریت والی اس ریاست کی نوعیت کو تبدیل کردے گا۔آرٹیکل 35 اے کے تحت غیر کشمیری باشندے مقبوضہ کشمیر میں مالکانہ حقوق پر زمین نہیں خرید سکتے تھے لیکن اب ممکنہ طور پر بھارتی حکومت ہندوئوں کو کشمیر کی طرف ہجرت کرنے کی حوصلہ افزائی کریگی۔آرٹیکل 35 اے کا خاتمہ راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ یا آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد جیسی انتہا پسند تنظیموں کا دیرینہ مطالبہ تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں پہلے ہی تقریباً5 لاکھ بھارتی فوجی موجود ہیں جو فوری طور پر وہاں زمینیں خرید سکتے ہیں اور مستقبل میں یہ عمل بڑے پیمانے پر ہوسکتا ہے ۔ مودی حکومت پہلے ہی اعلان کرچکی ہے کہ وہ اکتوبر میں مقبوضہ کشمیر میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد کریگی۔ نئے انتظامات کے تحت مودی حکومت ہندوئوں کیلئے نئی بستیاں بسا سکتی ہے جنکے اپنے شاپنگ مال، سکول اور ہسپتال ہونگے اس کے نتیجے میں کشمیر کی مزید تقسیم کی راہ ہموار ہوگی۔ مقامی جماعتیں اور کارکن بھارت کے ان عزائم کا پہلے بھی مقابلہ کرتے رہے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ مگر تبدیل ہوتی صورتحال میں کوئی ایک حملہ بھی فرقہ وارانہ فسادات کی آڑ میں کشمیری مسلمانوں پر تباہ کن اثرات مرتب کرسکتا ہے۔فارن پالیسی میگزین کا کہنا ہے کہ ابتدا ء میں جموں اور لداخ کے غیر مسلم باشندوں نے مودی حکومت کے اقدام کا خیرمقدم کیا تھا لیکن اب ان میں سے بعض نے اپنی ثقافت اور روزگار کے تحفظ سے متعلق خدشات کا اظہار شروع کردیا ہے۔ 5اگست سے مقبوضہ کشمیر دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے لیکن کرفیو، ذرائع ابلاغ پر پابندیاں اور گرفتاریاں ہمیشہ جاری نہیں رہ سکتیں، جب پابندیاں ختم ہونگی تو دنیا یکسر مختلف کشمیر دیکھے گی۔
روس، برطانیہ، کینیڈا، ہالینڈ
روس ، برطانیہ اور کینیڈا نے پاکستان اور بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ تنازع کشمیر مل کر حل کریں ۔ اقوام متحدہ میں روس کے مستقل مندوب دمتری پولیانسکلی کہتے ہیں کہ روس بھارت اور پاکستان کا دوست اور اچھا شراکت دار ہے ، ہمارا کوئی پوشیدہ مفاد نہیں ، اس لیے دونوں پڑوسیوں کے درمیان بہتر تعلقات کیلئے دل سے کوششیں جاری رکھیں گے۔روس چاہتا ہے کہ کشمیر سے متعلق تنازع دو طرفہ سیاسی اور سفارتی سطح پر بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جائے۔ بات چیت کیلئے 1972ء کا شملہ معاہدہ، 1999ء کا اعلان لاہور ، اقوام متحدہ کے چارٹر ، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور پاک ،بھارت دو طرفہ معاہدوں کو سامنے رکھنا ہو گا۔کینیڈا کی وزیرخارجہ کرسٹیا فری لینڈ کہتی ہیںکہ انکا ملک صورتحال کابغور جائزہ لے رہا ہے۔انہوں نے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ کینیڈا کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش ہے۔ ہالینڈ کے وزیرخارجہ اسٹیف بلوک کہتے ہیںکہ وہ کشمیر کے حالات کابغور جائزہ لے رہے ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ وادی میں کشیدگی میں مزیداضافے سے گریز کرنے کی ضرورت پرزوردیا۔انہو ں نے بھارت اورپاکستان سے کہاکہ وہ تصفیہ طلب امورطے کرنے کیلئے بات چیت کریں۔
10 لاکھ سے زائد ٹویٹس کا نیا۔۔۔ ریکارڈ اور پُر امن مستقبل
بھارتی یوم آزادی پر پاکستان کی جانب سے یوم سیاہ کے طور پر منانے کی حمایت میں دنیا بھر میں ریلیاں اور احتجاجی مظاہرے کئے گئے اس موقع پر 10لاکھ سے زائد ٹویٹس کرنے کا نیا ریکارڈ بھی قائم ہوا۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم سیاہ کی مہم 30 گھنٹے سے زائد وقت جاری رہی جبکہ اس مہم کے دوران ٹویٹر پر دنیا بھر کے تمام مذاہب، مکاتب فکر، رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے عوام نے کشمیریوں سے اظہار یکجہتی اور بھارتی یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کی حمایت کی۔مہم کے دوران بھارتی یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کی حمایت میں ایک ملین سے زائد ٹویٹس کی گئیں جو کسی بھی مہم کے دوران کی جانے والی ٹویٹس میں نیا ریکارڈ ہے۔ ٹویٹر پر عالمی برادری نے کشمیر میں بھارت کے سیاہ چہرے کو پیش کیا۔متحدہ عرب امارات میں بھارت کیلئے ایک اور ہزیمت یہ ہوئی کہ یو اے ای میں واقع دنیا کی سب سے بڑی عمارت برج خلیفہ پر 15 اگست کو بھارتی جھنڈا آویزاں نہیں کیا گیا۔جبکہ بھارتی جھنڈا لہرانے کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر ثانیہ مرزا کڑی تنقید کی زد میں آگئیں۔شعیب ملک کی اہلیہ ثانیہ مرزا نے بھارتی جھنڈا لہرانے کی تصویر کے ساتھ بھارتی یومِ آزادی کی مبارکباد دی جس پر فالورز نے نہ آئو دیکھا نہ تائو، ان پر تنقید کے تیر برسائے اور شدید غصے کا اظہار کیا ۔زارا اکرام نامی ٹوئٹر صارف نے اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے ثانیہ سے کہا کہ انسانیت کی خاطر تو’’ یومِ سیاہ‘‘ منا لیں۔اس کے علاوہ اکثر ٹوئٹر صارفین نے کشمیر اور پاکستان کے جھنڈے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’’کشمیر بنے گا پاکستان۔‘‘
یونیسیف کی سفیر برائے امن اور اداکارہ پرینکا چوپڑہ بھی دنیا بھرکے صارفین کی تنقید کی زد میں ہیں۔لاس اینجلس میں تقریب کے دوران ایک پاکستانی خاتون عائشہ ملک کے ساتھ ان کا رویہ عوام کو پسند نہیں آیا۔ جنوری میں پاکستان کے ساتھ فوجی کشیدگی کے دوران پرینکا نے ٹوئٹر پر بھارتی فوج کی حوصلہ افزائی کیلئے جے ہند کا نعرہ لگایا تھا۔عائشہ ملک نے پرینکا کی اسی ٹوئٹ کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا جس پر بظاہر پرینکا بیزار نظر آئیں لیکن خود کو سنبھالتے ہوئے انہوں نے کہا ہمیں درمیانے راستے پر چلنا پڑتا ہے اور یہ کہ وہ ایک محبِ وطن بھی ہیں۔انڈیا میں’’حب الوطنی یا قوم پرستی‘‘کے بخار کی پرینکا اکیلی شکار نہیں دراصل اس وقت انڈیا میںقوم پرست ہونا ضرورت ہے اور فیشن بھی ۔ پاکستانی اداکارہ مہوش حیات نے پرینکا کی’’حب الوطنی‘‘ کا انتہائی خوبصورت جواب دیا ۔ مہوش نے نہ تو کسی کو ڈانٹا اور نہ ہی کسی کو نیچا دکھانے کی کوشش کی ۔ ناروے میں ایک تقریب کے دوران مہوش نے انتہائی پر وقار اور مؤدبانہ انداز میں فلم انڈسٹری کی ذمہ داریوں اور انڈسٹری کے لوگوں سے مثبت انداز میں کام کرنے کی اپیل کی ۔ مہوش کا کہنا تھا ’’فلم انڈسٹری پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیونکہ سنیما ایک طاقتور آلہ ہے جو لوگوں کا نظریہ، ذہن اور رویہ بدلنے کی طاقت رکھتا ہے اس کا استعمال سمجھداری سے کیا جانا چاہیے۔ فلموں میں کسی بھی ملک کو منفی انداز میں پیش کرنے کے بجائے اسکے اچھے پہلوؤں اور خوبیوں کو بھی پیش کیا جانا چاہیے۔ بالی وڈ نے اپنی فلموں میں ہمیشہ پاکستان کو غلط روشنی میں دکھانے کی کوشش کی، دونوں ملکوں کی مشترکہ تاریخ، سیاست اور ذہنیت کے پس منظر میں غیر جانبدار رہنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔پرینکا اور دیگر انتہا پسندوں کو یہ طے کرنا ہوگا کہ قوم پرستی اہم ہے یاپُرامن مستقبل۔‘‘
دنیا پُر امن مستقبل چاہتی ہے تو اسے مظلوم کشمیریوں کو انصاف دلانا ہو گا ، قابض ، غاصب مودی حکومت کا ہاتھ روکنا ہو گا ،۔۔۔۔ہم نے آج آپ کو دنیا بھر کی مختصراً اور چند اہم رائے سے آگاہ کرنے کی کوشش کی ،مودی حکومت ان آوازوں کو غور سے سنے اور سمجھنے کی کوشش کرے تو یہ انتہائی صاف ، سچی اور دوٹوک ہیں ۔ یہ آوازیں پاکستان نہیں بھارت کیخلاف ہیں ، ظلم کیخلاف ہیں اور مظلوم کیساتھ ہیں۔۔۔قارئین آپ نے دنیا بھر کی رائے کو تو ملاحظہ کیا اب آخر میں مقبوضہ کشمیر کی آواز بھی سنیں ۔۔۔کیونکہ یہ نا انصافی کے مترادف ہو گا کہ سب کی سنی جائے اور مقبوضہ کشمیر کی نہ سنی جائے ۔۔۔۔میں نے چشم ِ تصور کی نذر الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر اپنی حالات پہ کیا کہتا ہے
اقوام متحدہ نے بھارتی جھوٹ کا پول کھول دیا
ااقوام متحدہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جھوٹ کا پول کھول دیا، پاکستان کی سفارتی کامیابی دنیا کے سامنے آگئی،سلامتی کونسل کے اجلاس کی خبر جاری کردی گئی۔ کشمیر کے مسئلے پر سلامتی کونسل میں براہ راست بات چیت ہوئی،اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے جموں و کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ مقبوضہ کشمیرکا خصوصی درجہ تھا جو بھارت نے 5 اگست کوختم کردیا، اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کو عالمی تنازع تسلیم کرلیا ، سلامتی کونسل نے کہا ہے مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کے چارٹر اور قراردادوں کے مطابق پْر امن طریقے سے حل ہو گا، کشمیر بین الاقوامی امن اور سیکورٹی کا مسئلہ ہے جو اقوام متحدہ کے دائرہ اختیار کے اندر 1965ء کے بعد پہلی بار زیر بحث آیا ۔ اقوام متحدہ کی نیوز ویب سائٹ پر بیان جاری کر دیا گیا جس میں سیکرٹری جنرل کے بیان کا حوالہ بھی دیا گیا جس میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے 1972 ء میں دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے شملہ معاہدے کا بھی حوالہ بھی دیا ۔دوسری جانب اقوام متحدہ میں پاکستان کی مندوب ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل کے ارکان کا اجلاس بلانے پر شکریہ ادا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اجلاس سے انڈیا کے اس دعوے کی نفی ہوتی ہے کہ کشمیر انڈیا کا اندرونی معاملہ ہے۔انھوں نے کہا کہ آج سیکورٹی کونسل میں کشمیر کی آواز گونجتی رہی۔ گذشتہ پچاس سال یہ پہلا موقع ہے کہ اکیلے جموں اور کشمیر کو سیکورٹی کونسل میں زیرِ بحث لایا گیا۔ جو بحث ہوئی اس سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ اقوام متحدہ کی قراردادیں آج بھی زندہ ہیں۔
ناگالینڈ کا اعلان آزادی اورخالصتان کا نیا نقشہ
دنیا نے دیکھا کہ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت پر حملے کے بعد بھارت میں اقلیتوں نے کھل کر نا انصافیوں اور ظلم پربات کرنی شروع کر دی ہے ، کئی ریاستیں الحاق کے فیصلے پر نظر ثانی کر رہی ہیں ۔ ناگا لینڈ کے حریت پسندوں نے تو اعلان آزادی کر دیا،اپنا الگ دارالحکومت بنالیا ،قومی پرچم اور ترانہ بھی جاری کر دیا۔خود بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بی جے پی نے بھارت کو ناگا لینڈ سے محروم کر دیا جبکہ ناگا لینڈ حکومت نے کہا ہے کہ ناگا لینڈ اب ایک آزاد ملک ہے جس پر بھارت نے زبردستی قبضہ کر رکھا تھا ناگا لینڈ نے کبھی بھی بھارت سے الحاق نہیں چاہا تھا۔بھارت نے 1947 ء میں زبردستی ناگا لینڈ پر قبضہ کر لیا تھا گذشتہ 71 برسوں کے دوران آزادی اور اپنے حقوق کی خاطر جدوجہد کرنیوالے ناگا لینڈ کے ہزاروں باسیوں کو دہشتگرد بھارتی فوجیوں کی جانب سے قتل کیا جا چکا ہے جبکہ ناگالینڈ کی خواتین کی عزتیں بھی تار تار کی گئیں۔حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ناگالینڈ بطور آزاد و خودمختار ملک کی حیثیت سے اپنا نظام چلائے۔ اسی لیے ناگالینڈ کی وفاقی حکومت نے 14 اگست 2019ء کو اپنا 73 واں یوم آزادی منایااس سلسلے میں پورے ناگا لینڈ میں یوم آزادی کی خصوصی تقاریب کا انعقاد کیا گیا۔
دوسری جانب خالصتان تحریک کے حامیوں نے بھارت کا نیا نقشہ جاری کر دیا۔ نقشے میں بھارت کو درجنوں چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں ٹوٹا دکھایا گیا ہے اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ بہت جلد بھارت ٹوٹ جائے گا اور خالصتان الگ ملک بنے گا جبکہ مکمل کشمیر اور جموں کی وادی بھی پاکستان کے ساتھ شامل ہو جائے گی۔ یہ نقشہ بھارتی پنجاب میں موجود خالصتان تحریک کے حامیوں کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں لندن میں نہ صرف بھارت کے یوم آزادی کو بطور یوم سیاہ تاریخی انداز میں منایا گیا ، ہزاروں افراد نے مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کیا ۔ اس تاریخی مظاہرے کے چند روز بعد لندن میں ہندو دلتوں اور سکھوں نے مل کر زبردست احتجاجی مظاہرہ بھی کیا اور مودی حکومت کی اقلیتوں کیخلاف انتہا پسند پالیسیوں اور مظالم کو بے نقاب کیا ۔
سیکولر بھارت کا نعرہ لگانے والی مودی سرکار نے بھارت میں بسنے والے مسلمانوں پر زمین تنگ کرتے ہوئے ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے۔حضرت خواجہ غریب نواز ؒکی درگاہ اجمیر شریف کے گدی نشین سید سرور چشتی نے موجودہ صورتحال کے پیش نظر خصوصی ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے اجمیر میںانتہا پسند جنونی ہندوئوں کے ہاتھو ں پہلوخان کے قتل کی شدید مذمت کی اور اس کیس کے تمام ملزمان کو بری کرنے پر کڑی تنقیدکرتے ہوئے کہا کہ اگر ملوث افراد بے گناہ ہیں تو اس کا مطلب بھوتوں نے پہلو خان کو قتل کیا پہلو خان کے بیٹے اب بھی کیٹل سمگلنگ کیس میں گرفتار ہیں اور انہیں حراست کے دوران بربریت کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ سارا ہندوستان جانتا ہے کہ پہلو خان کو ہندو انتہاء پسندوں نے سرعام تشدد کے بعد قتل کیا۔بھارتی مسلمان متحد ہو جائیں۔
بھارت کے اندر سے انصاف پسند آوازیں ہر گزرتے دن کیساتھ بلند ہو رہی ہیں ، مظاہروں کے سلسلے زور پکڑ رہے ہیں جن میں سیکولر و جمہوری جماعتیں اور طلباء تنظیمیں مظلوم کشمیریوں کیلئے انصاف طلب کر رہی ہیں اور ظالم مودی حکومت پر تنقید کے کوڑے برسا رہی ہیں ۔ ۔ ۔ ان میں سے ایک آواز کانگریس کے راجیا سبھا کے رکن اور سابق وزیر اعلیٰ وگوی جیا سنگھ کی بھی ہے جنکا کہنا ہے کہ’’ مودی نے واجپائی کاانسانیت،جمہوریت اور کشمیریت کا ڈاکٹرائن ٹھکانے لگادیا انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت سے ہی جموں و کشمیر کا مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے لیکن مودی نے وہ سب کچھ ٹھکانے لگادیا۔‘‘دوسری جانب پریس کلب آف انڈیا میں مقبوضہ کشمیر کی آنکھوں دیکھی صورتحال بیان کرنیوالے سماجی رہنمائوں کی بے باک پریس کانفرنس نے مودی مظالم کو دنیا بھر کے سامنے بے نقاب کر دیا ۔ سماجی رہنمائوں کے مطابق ان کے گروپ نے9اگست سے13اگست تک مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا جس کے دوران وہ سری نگر، سوپور، باندی پورہ، اننت ناگ، پلواما اور پام پور گئے تصاویر اور ویڈیوز بنائیں جنہیں دکھانے سے روک دیا گیا ۔علاوہ ازیں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں بھارت کے 80 رکنی وفد نے دہلی سے واہگہ تک امن مارچ کیا ، جسے’’ آغاز دوستی یاترا‘‘ کا نام دیا گیا،مارچ 12اگست کو شروع ہوا جبکہ اختتام 14اگست کی رات کو ہوا۔منتظمین کا کہنا تھا کہ مارچ کا خیال صحافی کلدیپ نائیر نے پیش کیا تھا جسے اچھا ردعمل ملا ۔ مزید برآںپاک ، بھارت دوستی منچ نے معروف صحافی اور امن دوست شخصیت ستنام سنگھ مانک کی سربراہی میں واہگہ بارڈر پر امن کے دئیے روشن کئے ، امرتسر میں خصوصی امن تقریبات کا اہتمام کیا اور انسانی حقوق کے احترام پر زور دیا۔
معروف بھارتی صحافی کرن تھاپڑ نے آرٹیکلز 370 اور 35 اے کے خاتمے پر سوالات اٹھا دئیے ان کا کہنا ہے کہ آرٹیکلز 370 اور 35 اے کے خاتمے سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت کے اس عمل کو تسلیم کرنا کئی لوگوں کیلئے مشکل ہے، خود کو’’یونین آف اسٹیٹس‘‘ کہلوانے والے ملک کیلئے یہ محض خلاف قیاس نہیں بلکہ ممکنہ طور پر خود کو شکست دینے والا عمل ہے، کشمیر کو ان خصوصیات سے محروم کرنا ناقابل تشریح ہے، کیا یہ سیکولر بھارت کو ہندو ریاست بنانا ہے؟ ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، مہاراشٹر، گجرات، آندھرا پردیش، تلنگانہ، پورے شمال مغرب کیساتھ ساتھ وہ علاقے جنہیں شیڈولڈ علاقے نامزد کیا گیا ہے کیلئے خصوصی شقیں موجود ہیں تو پھر آرٹیکل 370 ہی کیوں اتنا پریشان کن ہے؟۔۔۔یہاں ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ مودی حکومت نے معروف بھارتی ٹیلی ویژن چینل ’’این ڈی ٹی وی‘‘ کے شریک بانی پرونیلال اوراُن کی بیوی رادھیکارائیک کو غدار اور پاکستان کا ایجنٹ قرار دے ڈالا اس کی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ میڈیاہائوس یقیناً مودی حکومت کی توقعات پر پورانہیں اترا، خاص طورپر مقبوضہ کشمیر میں حالیہ بے چینی پر کی گئی رپورٹنگ کے حوالے سے ۔ ۔ ۔ مزید برآں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کشمیری طلباء نے عیدالاضحی پر وائس چانسلر کی طرف سے کھانے کی دعوت میں شرکت سے انکار کر تے ہوئے دعوت کا بائیکاٹ کردیا۔ طلباء نے بائیکاٹ کی وجہ یہ بیان کی کہ ’’یہ دعوت کشمیریوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔‘‘
انتہا پسند جنونی مودی ڈاکٹرائن کتنی آوازوں کو چُپ کروائے گی۔۔۔؟ کتنے سوالات کو نظر انداز کرے گی ۔۔۔؟ جواب دینا ہو گا ۔۔۔ظلم کا حساب دینا ہو گا ۔۔۔کیونکہ اب جدید دور میں طاقت ، دھونس اور جبر سے کچھ منوایا نہیں جا سکتا ۔ انسانوں اور انکے حقوق کا احترام کرنا ہو گا ۔
کشمیریوں کی زندگی اجیرن ہو چکی :ایمنسٹی انٹرنیشنل
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں بھارتی حکومت کی کارروائیوں کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ ایمنسٹی کے سیکرٹری جنرل کومی نائیڈو نے واضح الفاظ میں کہا کہ سیاسی بحران میں جموں و کشمیر کے عوام سے مہرے جیسا سلوک نہ کیا جائے اور عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ ان کے انسانی حقوق دلوانے کیلئے اقدامات کرے۔کشمیر میں بھارتی حکومت کی کارروائیوں کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے، کشمیری عوام کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سالہا سال سے انہیں اذیت اور تکلیف کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کشمیری عوام کی گرفتاریاںاور حقوق کی خلاف ورزی قابل مذمت ہے بھارت انسانی حقوق کے قانون کا احترام کرے عالمی امن و سلامتی کا تحفظ کرنا سلامتی کونسل کے ارکان کی ذمہ داری ہے،انہیں چاہیے کہ شورش زدہ علاقے میں شہریوں کے انسانی حقوق کو اولین ترجیح دیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ وادی میں جاری لاک ڈائون ختم کیا جائے، مودی سمجھتے ہیں کشمیر سے متعلق فیصلے کو عوام کی حمایت حاصل ہے تو وہ لاک ڈائون ختم کرکے دیکھ لیں۔ مقبوضہ کشمیر بند پڑا ہے اور بھارت آزادی منارہا ہے ، کیا یہ کھلا تضاد نہیں۔ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت کے سربراہ اکار پٹیل نے ایک بیان میں کہا کہ نریندر مودی کو خطے کے لوگوں کو سننا چاہئے ان سے مذاکرات کرنے چاہئیں اس وقت جموں و کشمیر کے عوام کو اپنے پیاروں سے رابطے اور اظہار رائے کی آزادی حاصل نہیں۔ پوری مقبوضہ وادی میں مواصلات کا نظام بند کرنا بین الاقوامی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
تحریر : طیبہ بخاری
