لائن آف کنٹرول کی دونوں جانب اور دنیا بھر میں کشمیریوں نے 15اگست ‘ بھارت کے یومِ آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا۔ اس دوران مقبوضہ وادی میں مکمل ہڑتال کی گئی‘ قابض فورسز کی جانب سے ہر طرح کے انتظامات کے باوجودکشمیری مزاحمتی ریلیاں بھی حسب سابق بھر پور انداز میں منعقد کی گئیں اور کشمیر کے عوام نے قابض فورسز کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے بھرپور انداز میں احتجاج ریکارڈ کرایا کہ وہ بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر تقسیم ہندوستان کا نامکمل ایجنڈا ہے۔ دو آزاد ریاستوں کی تشکیل جن بنیادوں پر ہوئی ‘ مقبوضہ کشمیر میں ان اصولوں کو بڑی ڈھٹائی کے ساتھ نظر انداز کیا گیا‘ مگر کشمیری عوام کی سات دہائیوں سے جاری جدوجہد گواہ ہے کہ کشمیری اپنے خطے پر بھارت کے ناجائز تسلط کوکسی صورت قبول نہیں کریں گے اور دنیا کو ایک نہ ایک دن اس مسئلے کو انصاف کے اصولوں کے مطابق حل کرنا ہی ہو گا۔ اگرچہ بھارت کے ساتھ پاکستان ‘ چین‘ بنگلہ دیش اورنیپال کے متعدد سرحدی تنازعات ہیں؛ تاہم اس خطے کے تنازعات کا مرکزہ مسئلہ کشمیر ہی ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جو خطے میں توازن یقینی بنائے گا۔ ماضی میں متعدد مرتبہ پاکستان اور بھارت کے مابین روایتی اور غیرروایتی سفارتکاری کے تجربات ہوئے‘بظاہر بہت سی پیش رفت بھی ہوئی ‘ مگر مقبوضہ کشمیر کے مسئلے میں خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے سے معاملات آگے نہیں بڑھ سکے۔ یہ صرف دو ممالک کے مابین علاقائی دعوے داری کا معاملہ نہیں بلکہ اسی لاکھ کے قریب عوام کا مسئلہ بھی ہے جنہیں بھارت کے بالجبر قبضے میں بے پناہ مظالم اور جنگی جرائم برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ ہمیں اقوام عالم کی توجہ مقبوضہ کشمیر کے اس انسانی المیے کی جانب مبذول کروانا ہو گی۔ یہ کام ریاستِ پاکستان کے لیے فرض کی اہمیت رکھتا ہے کہ مظلوم کشمیریوں کے مسائل کو دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر اجاگر کرے اور اس سلسلے میں عالمی برادری کے اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے مسئلہ کشمیر میں پیش رفت یقینی بنانے کا اہتمام کیا جائے۔
ہم اس سلسلے میں جتنا کچھ کر چکے ہیں ‘ اس میں مزید اور بھر پور اضافے کی گنجائش موجود ہے۔ ہمیں سب سے پہلے اور سب سے زیادہ مقبوضہ کشمیر کے انسانی المیے کو اجاگر کرنے پر زور دینے کی ضرورت ہے‘ وہاں کی خبریں‘ تصاویر ‘ ویڈیوز اور عوام کے تاثرات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں ہمارے اداروں کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہیے اور مسئلہ کشمیر کے متعلقہ حقائق اور معلومات کو شیئر کرنے میں جدید وسائل کا استعمال یقینی بنانا چاہئے۔ اس دوران علاقائی سطح پر بھی ہمیں اپنے سفارتی تعلقات اور وزن کو بڑھانے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس سلسلے میں اگرچہ پہلے ہی کافی پیش رفت ہو چکی ہے پھر بھی مزید آگے بڑھنے کیلئے خاصی گنجائش پیدا ہو رہی ہے ۔ ایک طرف افغانستان میں قیام امن کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار نظر آتی ہیں ‘ جس سے خطے میں شورش کا ایک بڑا باب بند ہو جائے گا اور استحکام کے امکانات روشن ہوں گے‘ دوسری جانب بھارت کے اپنی ہمسایہ ممالک کے ساتھ مسلسل بگڑتے ہوئے تعلقات ہیں۔ یہ اس لحاظ سے اہم دور ہے کہ اس میں بھارت کے اپنی ہمسائیگی میں کسی کے ساتھ لگاؤ نہیں‘ اس کا نتیجہ یہ کہ نیپال پہلے ہی بھارت کے چنگل سے نکل چکا ‘ بنگلہ دیش بھی فاصلے بڑھانے کی جانب چل پڑا ہے‘یہی وقت ہے کہ پاکستان سارک ممالک کی سطح پر اپنی کارکردگی پر توجہ دے اور جس پلیٹ فارم کو ماضی میں بھارت نے ہائی جیک کر لیا تھا ‘ وہاں پاکستان بھر پور کارکردگی کے ساتھ ابھر کر سامنے آئے۔ پاکستان کیلئے یہ کام جتنا اس وقت آسان ہے ماضی میں شاید ایسا کبھی نہ ہوگا۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ سفارتی محاذ پر ہماری ہر کامیابی ‘ خواہ یہ خطے میں ہو یا خطے سے باہر‘ ہمارے بنیادی مطالبات کو تقویت فراہم کرسکتی ہے
