Input your search keywords and press Enter.

ہندوستان اور خلیجی ممالک کے مشترکات اورمسئلہ کشمیر

 

ریسرچ رپورٹ

پالیسیاں حقائق کی روشنی میں ہونی چاہیے، حقائق کسی کے مذہبی جذبات اور نیک تمناوں کے تابع نہیں ہوتے۔آنکھیں بند کر لینے سے خطرات ٹل نہیں جاتے اور دوستی کے نعرے لگا کر کسی کو دوست نہیں بنایا جا سکتا۔اپنی پسند و ناپسند یا دینی و سیاسی جذبات و مفادات کی بنیاد پر ملکی و قومی پالیسیاں تشکیل دینے کے بجائے حقیقت پر مبنی پالیسیاں تشکیل دی جانی چاہیے۔ ملکی و قومی پالیسیاں صرف ہم سے ہی نہیں بلکہ ہماری آئندہ نسلوں اور ملک کے مستقبل سے جڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ اقوام اور ممالک کی پالیسیاں تقدیر ساز ہوتی ہیں اور اقوام کے حال و مستقبل کا تعین کرتی ہیں۔سعودی عرب اور خلیجی ممالک ہمارے دینی بھائی اور دیرینہ دوست ہیں، آئے روز پیش آنے والے مسائل کے پیشِ نظر ہمیں اپنے دوستوں میں اضافہ کرتے رہنا چاہیے، دوستوں میں اضافہ ہی دانشمندی ہے۔ دوستوں کو کھودینا سب سے بڑی نااہلی اور جہالت ہے۔ اسی طرح جو دوست کے بجائے دشمن ہو اُسے دوست سمجھنا بھی ایک کھلی حماقت ہے۔ ریاستیں حماقتوں کی متحمل نہیں ہو سکتیں، حماقتوں پر حماقتیں کئے جانا، حقائق کو چھپانا اور اعدادوشمار میں ردوبدل کرنا نیز مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا یہ صرف حماقت ہی نہیں بلکہ خیانت بھی ہے۔

سرزمین حجاز ہمارے لئے انتہائی مقدس سرزمین ہے۔ لیکن کیا یہ جاننا ہمارا حق نہیں کہ آج اس سرزمین پر کس کی حکومت ہے!؟ خلیجی ممالک کے بادشاہ کیسے برسرِ اقتدار آئے!؟ انہیں حکومتیں کیسے نصیب ہوئیں اور آج ان حکومتوں کا دنیا میں کیا کردار ہے!؟ کیا آج اسلامی برادری ان بادشاہوں سے خیر کی توقع رکھ سکتی ہے یا نہیں!؟ اور کیا کشمیر و فلسطین اور بابری مسجد پر ان بادشاہوں کی طرف سے کسی مثبت قدم کی کوئی امید کی جانی چاہیے یا نہیں!؟ پاکستان جو ان ممالک کا دوست سمجھا جاتا ہے کیا یہ ممالک بھی پاکستان کے دوست ہیں یا پاکستان کے دشمنوں کے دوست!؟ یہ سب جاننا ہمارا دینی و قومی و ریاستی اور قانونی حق ہے۔

حقائق کی جمع آوری کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ۲۰۰۵ میں ہی سعودی و خلیجی ممالک نے پاکستان ، فلسطین اور کشمیر کو ترک کر کے ہندوستان ،امریکہ و اسرائیل کو اپنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس وقت حالات کہاں پہنچ چکے ہیں انہیں سمجھنے اور جاننے کیلئے ہمیں صرف اور صرف ٹھوس شواہد کے ساتھ بات کرنی چاہیے۔ٹھوس شواہد یہی کہتے ہیں کہ پاکستانی حکمران اور ادارے جو بات خود نہیں سمجھنا چاہ رہے تھے سعودی عرب نے انہیں وہ بات قرضہ واپس مانگ کر سمجھا دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے