مقبوضہ کشمیر میں ہندو انتہاپسند تنظیم بی جے پی کے لیڈر اور ہندو پجاری کی طرف سے (نعوذ باللہ) شان رسالتؐ میں گستاخی کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہروں اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری ہے۔ جموں سمیت وادی کشمیر کے تمام شہروں و علاقوں میں لاکھوں کشمیری عوام سراپا احتجاج ہیں اور نبی اکرمؐ کی شان میں گستاخی کرنے والے انتہاپسند لیڈر ستیاپال شرما کی فی الفور گرفتاری اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی لیڈر نے توہین آمیز ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی تھی جس پر کشمیری مسلمانوں میں اشتعال پھیلا اور لوگ کرفیو کی پابندیاں پائوں تلے روند کر سڑکوں پر نکل آئے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جموں کے مختلف اضلاع میں ہڑتال کی جا رہی ہے تو مقبوضہ کشمیر کے گرمانی دارالحکومت سری نگر‘ بارہ مولہ‘ بانڈی پورہ‘ اسلام آباد (اننت ناگ)‘ ترال اور دیگر علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کے دوران نبی اکرمؐ کی حرمت کے تحفظ کے فلک شگاف نعرے گونج رہے ہیں۔ حریت کانفرنس کے چیئرمین اور بزرگ کشمیری قائد سید علی گیلانی نے جموں کے ریاستی علاقہ میں کئے جانے والے گستاخی کے اس واقعہ کو مقبوضہ کشمیر میں فسادات پھیلانے کی سازش قرار دیا ہے۔ اسی طرح میر واعظ عمر فاروق سمیت تمام کشمیری رہنمائوں اور تنظیموں نے اس گستاخانہ واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔
بھارت میں جب سے نریندر مودی کی حکومت برسراقتدار آئی ہے‘ مقبوضہ کشمیر خاص طورپر جموں میں فسادات پھیلانے کی سازش تیز کر دی گئی ہے۔ کچھ عرصہ قبل جموں کے ایک مندر میں انتہاپسندوں کی جانب سے سات سالہ مسلمان بچی کو اجتماعی بداخلاقی کا نشانہ بنایا گیا اور اس افسوسناک واقعہ کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی تھی۔ اس موقع پر بھی جب گرفتار دہشت گردوں سے جموں کشمیر پولیس نے تحقیقات کیں تو اس امر کا انکشاف ہوا کہ انہوں نے یہ سارا کھیل اس لئے کھیلا تھا کہ مقامی مسلمانوں میں خوف و ہراس پیدا ہو اور وہ جموں سے ہجرت کرکے وادی کشمیر چلے جائیں۔ مقبوضہ جموں میں ہندو انتہاپسندوں کو باقاعدہ ٹارگٹ دیا گیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز اقدامات کریں۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیا پر آئے دن یہ خبریں زینت بنتی رہتی ہیں کہ جموں کے مندروں میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے اسلحہ جمع کیا جا رہا ہے۔ حریت کانفرنس کے قائدین بھی کئی مرتبہ اس ہولناک سازش کے خلاف آواز بلند کر چکے ہیں مگر مودی حکومت ہندو انتہاپسندوں کی مکمل سرپرستی کررہی ہے اور کوئی ان کے خلاف ایکشن لینے کیلئے تیار نہیں ہے۔ گزشتہ برس اگست میں جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت والی دفعات ختم کرنے کے بعد سے ہندو دہشت گردوں کی مسلمانوں کے خلاف سازشیں اور زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ حال ہی میں جموں میں بی جے پی لیڈر اور ہندو پجاری کی طرف سے توہین رسالتؐ کا پیش آنے والا واقعہ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ پہلے بھارتی شہر بنگلور میں گستاخی کرکے مسلمانوں کا قتل اور ان کی املاک کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے فوری بعد جموں میں سوشل میڈیا پر گستاخانہ ویڈیو اپ لوڈ کر دی گئی۔ ہندو انتہاپسندوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مسلمان شان رسالتؐ میں گستاخی کسی صورت برداشت نہیں کر سکتے۔ اس لئے ایسی مذموم حرکتیں منظم منصوبہ بندی کے تحت جموں کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف دہشت گردی پروان چڑھائی جا رہی ہیں۔
کشمیری مسلمانوں کے شدید احتجاج پر گستاخ بی جے پی لیڈر کی گرفتاری کا دعویٰ کیا جا رہا ہے مگر یہ سب دنیا کو دکھانے اور دھوکہ دینے کیلئے ہے۔مقبوضہ جموں میں گستاخی کے حالیہ واقعہ کے خلاف کشمیری حریت پسند تنظیموں کی طرح سکھ برادری بھی سراپا احتجاج ہے۔ جموں کشمیر سوشل پیس فورم کے چیئرمین ایڈووکیٹ دیویندر سنگھ بہل نے بھی بی جے پی لیڈر ستیا پال شرما کی طرف سے شان رسالتؐ میں گستاخی کی شدید مذمت کی اور کہا ہے کہ بھارت کی بی جے پی حکومت آر ایس ایس غنڈوں کے ذریعے جموں کشمیر کا امن برباد کرنے کے خوفناک منصوبہ پر عمل پیرا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنت ارضی کشمیر میں مسلمانوں نے کبھی بھی ہندوئوں یا کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کی توہین نہیں کی‘ لیکن مودی سرکار کبھی گجرات میں نہتے مسلمانوں کا خون بہاتی ہے تو کبھی بابری مسجد شہید کرکے رام مندر کی تعمیر شروع کر وا دیتی ہے۔ ایڈووکیٹ دیویندر سنگھ نے کہا کہ سکھ برادری شرپسندوں کی گستاخیوں کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔ حریت کانفرنس سمیت جموں کشمیر سوشل پیس فوم و دیگر تنظیموں نے اقوام متحدہ‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سے اپیل کی ہے کہ وہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا نوٹس لیں اور اپنی ٹیمیں کشمیر بھیج کر تحقیقات کرائیں تاکہ انہیں اصل حقائق کا معلوم ہو سکے۔
کشمیری قوم کا یہی وہ جذبہ ہے کہ امسال پندرہ اگست کو انڈیا کے یوم آزادی پر بھی ہندوستانی فوج سری نگر کے لال چوک میں ترنگا لہرانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ بھارتی میڈیا نے اس حوالہ سے فوٹو شاپ کے ذریعے سری نگر کے لال چوک کی تصویر پر ترنگا لہرانے کی جعلی تصویر بنائی اور اسے فیس بک اور ٹوئٹر کے ذریعے پھیلایا گیا تاہم کشمیریوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ہی اس بھارتی جھوٹ کا پول کھول دیا اور ہندوستانیوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔ کشمیری قوم آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارتی سازشیں ناکام بنانے کیلئے بھی مضبوط عزائم رکھتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان بھی کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا کھل کر ساتھ دے اور تمام بین الاقوامی فورمز پر بھارتی ظلم و دہشت گردی کو بے نقاب کیا جائے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے بزرگ کشمیری لیڈر سید علی گیلانی کو یوم آزادی کے موقع پر نشان پاکستان دیا گیا ہے جس پر کشمیری عوام خوش ہیں‘ تاہم ایف اے ٹی ایف کے دبائو پر ہمارے ہاں کشمیری تنظیموں پر جو پابندیاں عائد کی گئیں اور حافظ محمد سعید جیسے رہنمائوں کو بلاجواز جیلوں میں ڈالا گیا‘ اس پر وہ سخت تحفظات کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اگر کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی عملی مدد کرنا چاہتا ہے تو پھر پاکستان میں جو شخصیت کشمیریوں کیلئے سب سے مضبوط آواز سمجھی جاتی تھی‘ انہیں کیوں قید رکھا گیا؟ ماضی میں یو این کی سلامتی کمیٹی کی قرارداد1267 کے تحت حافظ محمد سعید و دیگر پر تین قسم کی پابندیاں لگائی گئیں جن میں سفر پر پابندی‘ اسلحہ نہ رکھنے اور بینک اکائونٹ نہ کھلوانے کی پابندی شامل تھی‘ لیکن ہماری حکومت نے انہیں طویل عرصہ تک قید کئے رکھا جوکہ یو این کے قوانین کے حوالے سے بھی بلا جواز تھا۔ اس وقت بھی صورتحال یہی ہے۔ پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں ہندو انتہاپسندوں کی گستاخیوں اور فسادات پھیلانے کی سازشوں سے متعلق بھی بھرپور آواز اٹھانی چاہئے تاکہ مودی سرکار کو ایسے مذموم اقدامات سے روکا جا سکے۔
