پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے سٹریٹیجک ڈائیلاگ کے حالیہ راؤنڈ اور اس دو روزہ اجلاس کے مشترکہ اعلامیے پر بھارت کی بے تکی بیان بازی کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے دو ٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے واضح کیاہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کی بیان بازی محض افسانوی ہے جو تاریخی اور قانونی حقائق کے سراسر متصادم اور سکیورٹی کونسل کی قرار دادوں کی صریحاً خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ یہ الفاظ اور لہجہ پاکستان کی کشمیر پالیسی کو مؤثر طور پر پیش کرنے کے لیے بر محل ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں بھارت کے ناجائز دعوے پر پاکستان کو یقینی طور پر سخت مؤقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اصولی طور پر ہمارا ملک پہلے دن سے اسی پوزیشن پر کھڑا ہے؛ تاہم مسئلہ کشمیر کے حالات و واقعات نے اب یہ ذمہ داری ہم پر ڈال دی ہے کہ اس مؤقف کو زیادہ زور دار انداز سے پیش کیا جائے اور یہ کہنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں کہ پاکستان کو اپنی کشمیر پالیسی کے سٹرکچر پر نظر ثانی کر لینی چاہیے۔
ہمیں روایتی اور اصولی سفارت کاری کے چکر سے نکل کر مقبوضہ کشمیر کیلئے جارحانہ سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ اس دوران جب قابض فورسز مقبوضہ کشمیر کے علاقوں میں جنگی جرائم کے مرتکب ہو رہی ہیں ‘ روایتی سفارتکاری وقت کا زیاں ہو گی۔ جموں و کشمیر کے حوالے سے بھارت کے خود ساختہ اور ناجائز دعوے کا مؤثر جواب پاکستان پر واجب ہے اور یہ جواب ہر سطح پر دیا جانا نہایت ضروری ہے۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ دنیا کے بااثر فورمز اور اداروں میں تواتر سے زیر بحث آئے اور عالمی برادری کی توجہ اس جانب مبذول ہو سکے۔ بھارتی اثرورسوخ اس سلسلے میں اب تک ایک بڑی رکاوٹ رہا ہے ‘ بہت سے ممالک صرف اقتصادی مفادات کی خاطر اس غیر معمولی انسانی المیے کو کھل کر زیر بحث لانے سے ہچکچاتے رہے ہیں جبکہ ذرائع ابلاغ اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والے اداروں پر بھی کچھ اسی قسم کا غیر مرئی دباؤ رہا ہے۔ ہمارے اداروں کو اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہونا چاہیے۔
صرف اسی صورت میں وہ ماحول بن سکتا ہے جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کا مسئلہ دنیا کے ہر مؤثر فورم پر کھل کر زیر بحث آسکتا ہے۔ حقوق انسانی کے اداروں اور قیام امن میں دلچسپی رکھنے والے حلقوں کو بھی اس معاملے میں متحرک کیا جانا ضروری ہے اور ان اداروں کے جائزے‘ مطالعات اور رپورٹیں وسیع پیمانے پر پھیلانے کا اہتمام بھی ضروری ہے۔ہمیں یہ مان لینا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کے تاریخی‘ علاقائی ‘ عالمی‘ انسانی ‘ سیاسی اور تزویری پہلوؤں کو اجاگر کرنا جس حد تک ضروری تھا ‘ہم اتنا نہیں کر پائے۔ ہماری تمامتر مساعی کے باوجود ابھی بہت کچھ کیا جانا لازم ہے۔ بیان بازی کی اپنی اہمیت ہوتی ہے مگر یہ فرض صرف زبان دانی سے ادا نہ ہو گا‘ اس کیلئے دانش گاہوں کی سطح پر تحقیق و تصنیف کا بھر پور کام کیا جانا بھی ضروری ہے۔
مسئلہ کشمیر کے مقدمے کو عالمی فورمزپر زور دار انداز سے اٹھانے کیلئے یہ سارے خلا پُر کرنا ہوں گے۔خطے کے حالات جس جانب بڑھ رہے ہیں اور عالمی سطح پر رونما ہوتی تبدیلیاں جواشارے دے رہی ہیں ان میں یہ واضح ہے کہ جنوبی ایشیا عالمی توجہ کا مرکز رہے گا۔ اس منظر نامے کو سامنے رکھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کیلئے بھرپور کردار کی تیاری کرنا ہو گی۔ جنوبی ایشیا کے خطے میں پاکستان اور چین کی قریبی شراکت باعث ِ اطمینان ہے۔دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے سٹرٹیجک ڈائیلاگ کے حالیہ دور میں بھی اس پر فخر کا اظہار کیا گیا اور مشترکہ مفادات کے تحفظ کیلئے مل کر اقدامات کرنے کے عزم کا جو اظہار کیا گیا ہے وہ قابل ِ توجہ ہے۔مشترکہ مفادات صرف پاک چین اقتصادی راہداری تک محدود نہیں بلکہ گزشتہ برس کے ناجائز بھارتی اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیرکو بھی اس فہرست میں شامل سمجھیں۔
