Input your search keywords and press Enter.

کشمیر کی مسلم اکثریت میں تبدیلی کا عمل شروع

کشمیر کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کے بعد بھارت اب نہایت ڈھٹائی کے ساتھ کشمیر کی مسلم شناخت اور حیثیت ختم کرنے کی کوشش میں تیزی لا رہا ہے۔ غیرمسلم بھارتی ہندوئوں کو جموں میں لاکر بسایا جا رہا ہے۔ جموں کے مسلم علاقوں میں ہزاروں جعلی ڈومیسائل جاری کرکے غیرمقامی ہندوئوں کو آباد کر رہا ہے۔ یوں بی جے پی کی ہندو توا کی حکمرانی کے خواب کو عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ اسکے ردعمل میں کشمیری مسلمانوں کا سیخ پا ہونا فطری عمل ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی تمام سیاسی غیرسیاسی تنظیمیں اور جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ کوئی کشمیری کسی غیرمقامی شخص کو پیسے اور اچھے داموں کے لالچ میں آکر اپنی اراضی فروخت نہ کرے۔

بھارت اسرائیل والی پالیسی پر عمل کرنے میں مصروف ہے، جس طرح یہودیوں نے غربت اور پسماندگی کے مارے لالچی فلسطینیوں سے بھاری رقوم دیکر فلسطین کی اراضی خریدی اور وہاں دھڑا دھڑ یہودیوں کولا کر آباد کیا۔ اس وقت فلسطینیوں کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کتنا غلط کر رہے ہیں مگر شکر ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ایسی کوئی صورتحال نہیں جہاں تمام تر جبر اور قہر کے باوجود کشمیری غیرمقامی افراد کو اراضی، گھر اور دکانیں فروخت کرنے کی شدید مزاحمت کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں، ایسا کرنے سے ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو آج فلسطینیوں کو ہو رہا ہے۔ صوبہ کشمیر تک یہ تحریک بڑی شدومد سے جاری ہے۔دوسری طرف صوبہ جموں میں حالات خراب ہیں وہاں 1947ء کی تقسیم کے وقت بھی لاکھوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار کر ان کی جائیدادوں پر ہندوئوں نے قبضہ کرلیا اور جموں شہر اور اس کے اردگرد کے علاقوں کو ہندو اکثریتی بنا دیا مگر آزادکشمیر سے جڑے علاقے راجوری، پونچھ اور مینڈھر وغیرہ میں آج بھی لاکھوں جاٹ، بکروال، گوجر اور دیگر مسلم قبائل آباد ہیں وہاں انکی حالت خراب ہے۔ حکومت زور زبردستی سے ڈرا دھمکا کر ان علاقوں میں ہندوئوں کو جعلی شہریت دیکر بسا رہی ہے کہ ان علاقوں میں بھی مسلم اکثریتی تناسب کو تبدیل کر دے۔ یوں خطرہ ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے ، بھارت کو ایسا کرنے سے نہ روکا گیا تو جموں شہر کے بعد اب ان علاقوں میں بھی ہندو اکثریت ہو جائیگی۔ یہ سب وہی ہتھکنڈے ہیں جو اسرائیل نے فلسطین میں کرکے وہاں یہودیوں کو لا کربسایا۔ اب عالمی برادری کو اس مکروہ فعل سے آگاہ کرنا پاکستان کی اولین ذمہ داری ہے، افسوس کہ ہم بھارت کی طرف سے کشمیر کو ہڑپ کرنے اور آئینی ترامیم ختم کرکے کشمیر کو اپنا حصہ بنانے کے خلاف کوئی فوری قدم نہیں اٹھا سکے۔اس طرح بھارت کا حوصلہ اور بلند ہوااور اس نے اب کشمیر کو ہندو اکثریتی ریاست بنانے کی ٹھان لی ہے۔ یہی بی جے پی کا دستور ہے۔ انتخابی وعدہ ہے اور کوشش بھی کہ کشمیریوں کو دیگر بھارتی مسلمانوں کی طرح اپاہج بنا کر بے یارومددگار کرکے رکھے اور جب چاہے بریلی‘ سورت‘ گجرات‘ دہلی‘ میرٹھ اور مرادآباد کی طرح فسادات کروا کر وہاں کے مسلمانوں کی معاشی طاقت کو تباہ و برباد کردے۔ کشمیر واحد ریاست ہے جہاں کے تمام نہ سہی‘ اکثریت مسلمانوں کی متمول ہے۔ خوشحال ہے۔ ان کی اپنی زبان ہے‘ ثقافت ہے‘ تاریخ ہے۔ وہ کسی دور میں بھی ہندو توا سے خوفزدہ نہیںہوئے۔ انہوں نے اپنی شناخت برقرار رکھی مگر کب تک وہ ایسا مزید کر سکتے ہیں۔ بھارتی فوج بے گناہ کشمیریوں کے قتل عام میں مصروف ہے۔ اس کام میں انہیں بھارتی حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ پاکستان کی کشمیر پر ڈھیلی ڈھالی پالیسی سے بھارت خوفزدہ نہیں کیونکہ وہ پاکستانی سیاستدانوں اور حکمرانوں کی گرما گرم تقریروں سے نہ پہلے کبھی متاثر ہوا تھا نہ اب ہو رہا ہے اس لئے اب یا کبھی نہیں والی پالیسی پاکستان کو اپنانا ہوگی۔ بھارت ایل او سی پر چھیڑ چھاڑ یونہی نہیں کر رہا‘ اس طرح وہ پاکستان کو سرحدوں پر مصروف رکھ کر مقبوضہ جموں کشمیر میں من پسند اقدامات کرکے وہاں ہندوئوں کو لا کر آباد کر رہا ہے۔ اب دنیا کی توجہ اس طرف دلانا ہوگی تاکہ بھارت کو روکا جا سکے۔ بھارت پوری تیاری کیساتھ کشمیر کی جغرافیائی حیثیت تبدیل کرنے کے بعد اب اسکی مسلم اکثریتی حیثیت بھی بدل رہا ہے جس پر خاموش رہنا کشمیر سے مکمل دستبرداری کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ اب کچھ عناصر اگر یہ جانتے ہوئے بھی کہ معاہدہ شملہ کی رو سے ہم کسی عالمی فورم پر مسئلہ کشمیر نہیں اٹھا سکتے۔ ہمیں عالمی ثالثی عدالت میں جانے کا مشورہ دے رہے ہیں تو وہ برحق ہیں۔ان کی بھی سنی جانی چاہئے کیونکہ جب بھارت معاہدہ شملہ کی خلاف ورزی کرکے کشمیر کی حیثیت بدل رہا ہے تو ہم کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ اور عالمی ثالثی عدالت میں کیوں نہیں لے جا سکتے۔اب وقت آگیا ہے کہ ہم عالمی ثالثی عدالت جا کر بھارت کے مکروہ عزائم بے نقاب کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے