Input your search keywords and press Enter.

پاکستان اور کشمیر ضروری ہے

برصغیر کی تقسیم کے وقت برطانیہ کی خواہش تھی کہ ہندوستان کی تمام خودمختار ریاستیں، راجوڑے یہ فیصلہ خود کریں کہ وہ اپنی ریاستوں کو پاکستان یا بھارت میں سے جس مملکت میں ضم کرنا چاہیں کر سکتے ہیں یا پھر انہیں ایک تیسری صورت بھی دی گئی کہ اگر وہ آزاد یا خود مختار ملک کے طور میں بھی رہنا چاہتے ہیں تو انہیں آزادانہ طور پر اس بات کا حق حاصل ہو گا۔ بہرحال اس وقت یہی امید کی جا رہی تھی کہ تمام ریاستیں دونوں ممالک میں سے الحاق کے لئے کسی ایک کا ہی انتخاب ضرور کریں گی۔ برطانیہ کے زیر تسلط ہندوستان کی تقسیم سے پہلے کشمیر برطانوی سرپرستی میں ایک خود مختار رجواڑا یا ریاست تھی۔ متحدہ ہندوستان کے تمام راجواڑے برطانوی ہندوستان کا حصہ تصور نہیں کئے جاتے تھے اور ان کے عوام کو بھی برطانوی عوام کا درجہ حاصل نہ تھا۔ اسی لئے یہاں پر برطانیہ کو قانون سازی کا حق بھی حاصل نہ تھا۔البتہ دفاع اور خارجہ پالیسی کے تمام اختیارات برطانیہ کے پاس تھے۔ ریاست کشمیر کو دیگر ریاستوں کے برعکس زیادہ خودمختیاری اور مراعات حاصل تھیں۔ اسی لئے کشمیر میں 1885 میں کوئی بھی مستقل برطانوی ’ریزیڈنٹ‘ نہیں ہوا کرتا تھا۔ کشمیر کا اپنا آئین، قوانین تھے اور اس کے برطانیہ اور دیگر ہمسایہ ریاستوں کے ساتھ متعدد معاہدے بھی کر رکھے تھے۔ تاہم ہندوستان پر برطانوی راج کے آخری دنوں میں کشمیر کی خودمختاری کو واضح طور پر تسلیم کیا جا چکا تھا۔تین جون 1947 کے ایک بیان میں اس بات کو دہرایا گیا کہ رجواڑوں میں اختیارات اور فرائض کی منتقلی نہیں ہوگی۔ 16 جولائی 1947 کو برطانوی پارلیمان نے فیصلہ کیا کہ تاج برطانیہ کے نمائندے کی طرف سے کی گئی تعیناتیاں، اور ان کے فرائض سب ختم ہو جائیں گے اور ریاستیں ازخود اپنی قسمت کی مالک ہوں گی۔ وہ خود اس بات کا انتخاب کریں گی کہ وہ بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتی ہیں یا پھر اکیلے کھڑے ہونا چاہتی ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ تمام رجواڑوں کو دونوں میں سے ایک نئے ملک میں اپنا صحیح مقام مل جانا چاہیے۔1947 کے انڈین انڈپنڈنس ایکٹ کے تحت پندرہ اگست 1947 کو کشمیر پر سے برطانوی بالادستی ختم ہو گئی اور چونکہ کشمیر نے پندہ اگست سے پہلے بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں کیا، تو وہ قانونی طور پرآزاد ہو گیا۔ مہاراجہ ہری سنگھ آزاد ہی رہنا چاہتے تھے۔تقسیم ہند کی تمام قانون سازی اور برطانوی حکومت کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ جیسے ہی ہندوستان میں برطانوی سامراج ختم ہوا۔ کشمیر مکمل طور پر آزاد ہو گیا اور اس بات کو بھارت اور پاکستان دونوں نے تسلیم کیا۔ یعنی یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ 15 اگست 1947 سے 26 اکتوبر 1947 تک، جب کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق ہوا، کشمیر مکمل طور پر آزاد تھا۔تقسیم ہند کے وقت صرف تین ایسے رجواڑے تھے، جنھوں نے یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ وہ الحاق کریں گے یا نہیں۔ ان میں کشمیر، جوناگڑھ اور حیدرآباد دکن شامل تھیں۔ کشمیر فوجی اور دفاعی نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کا حامل تھا اور اس کے علاوہ کشمیر کے ساتھ نہرو کا ’جذباتی تعلق‘ بھی تھا کیونکہ وہ ان کے آباو اجداد کا وطن تھا۔چونکہ مہاراجہ ہری سنگھ نے آزاد رہنے کے لیے اپنا ذہن بنا لیا تھا، اسی لئے انہوں نے ماونٹ بیٹن سے مزید ملاقاتوں سے کنارہ کشی اختیار کی تھی، تاکہ انہیں الحاق کے بارے میں بات نہ کرنی پڑے۔ تاہم 1947 مہاراجہ ہری سنگھ کے لیے ایک مشکل سال تھا۔ مقامی جماعتوں کی طرف سے دباو، پونچھ میں خانہ جنگی اور اس کے اوپر برطانوی ہندوستان کے سیاسی رہنماؤں اور وائسرائے کی طرف سے دباو تھا۔ ماونٹ بیٹن نے نہرو کی طرف سے مہاراجہ کے لیے کافی جارحانہ لہجے میں ’کشمیر پر ایک نوٹ‘ بھی لکھا تھا کہ اگر مہاراجہ بھارت کی آئین ساز اسمبلی میں شامل ہو جاتے ہیں تو بہتر ہو گا۔ اگر کشمیر کو پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کی طرف جھکانے کی کوشش کی گئی تو نتیجہ اچھا نہیں ہوگا۔ کشمیر کی بھارت کی آئین ساز اسمبلی میں شمولیت فطری اور قدرتی ہے۔تاہم اب ایک بات تو سب پر واضح ہے کہ کشمیریوں کو حق خودرادیت ملے بغیر اس خطے کے حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔کشمیر کی آزادی ہی جنوبی ایشیائ￿ میں امن کی ضمانت ہے۔گزشتہ برس مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا فیصلہ سیکولر بھارت کے چہرے پر بدنما داغ ہے اور پوری دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے فوجی جارحیت کے ذریعے مقبوضہ و جموں کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیاہوا ہے۔ بھارتی اقدام سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مزید خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔مودی سرکار نے گھناونے اقدامات کرکے جنت نظیر وادی کشمیر کو جہنم بنا دیا ہے اور بھارتی فوج نے کشمیری عوام کو آزادی کے اپنے پیدائشی حق سے باز رکھنے کیلئے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ہیں۔ بھارت نے ریاستی دہشت گردی کے ذریعے معصوم کشمیری عوام پر عرصہ حیات تنگ کر دیا ہے لیکن بھارت کا ہر حربہ کشمیری عوام کی آواز کو دبانے میں ناکام رہا ہے۔بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے انسانی حقوق کی دھجیاں بکھیر دی ہیں اور مودی سرکار کا یہ فیصلہ انسانی حقوق پر کھلم کھلا حملہ ہے۔مودی سرکار کا یہ متنازعہ اقدام پاگل پن ہے جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ بھارت نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حق خود ارادیت سے انحراف کیا ہے۔ مودی سرکار کو نہتے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم کا حساب دینا ہوگا۔ عالمی برادری کو اب ہر صورت بیدار ہونا پڑے گا اور بھارت کے متنازعہ اقدام کا نوٹس لینا ہوگا۔جب تک مذاکرات کی بنیاد مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ کی قراردادیں نہ ہوں اور ان میں کشمیریوں کی نمائندگی نہ ہو ان سے توقعات پیدا کرنا خود کو بیوقوف بنانے کے مترادف ہو گا۔ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی تنازع نہیں اصل تنازع کشمیر ہے اور جس مذاکرات کی بنیاد کشمیر نہیں ہو گا وہ کبھی نتیجہ خیز نہیں ہو سکتے۔ آج بھی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف نفرت اپنے عروج پر ہے جدوجہد اور جہاد کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہے اور یہ جدوجہد حق خود ارادیت تک جاری رہے گی۔ساری دنیا جانتی ہے کہ مسئلہ کشمیر برصغیر پاک و ہندکی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا جو حل طلب ہے۔آج مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی تیسری نسل کے نمائندے اور نوجوان طلباء  وطالبات

حق خود ارادیت کی جدوجہد کو پورے جوش وجذبے سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس عظیم مقصد کے لیے دن رات اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کررہے ہیں۔ برہان مظفر وانی جیسے مقبوضہ کشمیر کم عمر اور پڑھے لکھے نوجوان بھارتی تسلط سے آزادی کے لیے اپنی جانوں کی قربانی پیش کررہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے