قسط نمبر 3
آبادیاتی منظرنامہ
جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت کی تنسیخ اور دو لخت کرنے کے پیچھے اصل منصوبے اب آہستہ آہستہ کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ ان منصوبوں کی پہلی کڑی اس وقت سامنے آئی جب پشتینی باشندگی قانون کی جگہ اقامتی قانون متعارف کرایا گیا۔
دفعہ 370 اور دفعہ 35 ’اے‘ کے طفیل جموں وکشمیر میں صرف یہاں کے پشتینی باشندوں کو ہی املاک خریدنے اور سرکاری نوکری کرنے کا حق میسر تھا لیکن جب پشتینی باشندگی قوانین کی جگہ نیا اقامتی قانون یا ڈومیسائل قانون لایا گیا تو کشمیر کی مقامی سرکاری نوکریوں کو پورے بھارت کے لیے کھول دیاگیا لیکن جب اس پر احتجاج ہوا تو ذرا سی ترمیم کرکے اقامہ کے حصول کے لیے جموں میں 10 سالہ قیام لازمی قرار دیا گیا۔
غور طلب بات یہ ہے کہ 2011ء کی مردم شماری میں جموں وکشمیر میں 25 لاکھ بیرونی مزدور تھے جبکہ 7 لاکھ فورسز اہلکار بھی یہاں تعینات تھے۔ اس کے علاوہ بھارت سرکار کے ہزاروں ملازمین بھی برسہا برس سے یہاں تعینات ہیں۔ نیز مغربی پاکستان سے آئے ہوئے 6 لاکھ سے زیادہ ہندو پناہ گزیں بھی یہاں مقیم ہیں۔ یہ سب اب جموں وکشمیر کے اقامت گزار پائیں گے جبکہ اس کے علاوہ جموں میں قائم ان کئی کالونیوں کے ہزاروں غیر مقامی ہندو بھی اب مقامی کہلائیں گے۔
یوں جموں وکشمیر کی آبادی میں یکایک لاکھوں کا اضافہ ہوگا جس کو مقامی آبادی بجا طور آبادیاتی تناسب تبدیل کرنے کے تناظر میں دیکھ رہی ہے اور مسلم اکثریتی طبقے کو خدشہ ہے کہ اصل منصوبہ مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔
یہ خدشات بے جا بھی نہیں ہیں کیونکہ اس سے قبل جموں وکشمیر میں ایک دفعہ ایسا ہوچکا ہے۔ 1947ء میں تقسیم برِصغیر کے وقت جموں میں 4 لاکھ مسلمانوں کا قتلِ عام کرکے مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کردیا اور اس مرتبہ عوامی حلقے مانتے ہیں کہ اگر قتلِ عام ممکن ہے تو چور دروازے سے لوگ یہاں بسائے جائیں گے اور ایک وقت آئے گا جب ہندو تعداد میں زیادہ ہوں گے اور مقامی مسلمان اقلیت میں ہوجائیں گے۔
کشمیر فلسطین تو نہیں بنے گا؟
کشمیر کی مسلم اکثریت کو خدشہ ہے کہ بھارت اسرائیلی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور منصوبہ بند طریقے سے کشمیر کو فلسطین بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ اس ضمن میں اقامتی قانون بڑا ہتھیار ہے جس کے ذریعے باہر سے لوگوں کو یہاں آباد کیا جائے گا جبکہ یہاں مقیم لاکھوں غیر مقامی مقامی کہلائے جانے کے حقدار ٹھہرا دیے جائیں گے۔ ہند نواز سیاستدان بھی ایسے خدشات کا اظہار کرنے لگے ہیں اور وہ بھی سمجھتے ہیں کہ اصل منصوبہ ایک مذہبی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرکے کشمیر کو دوسرا فلسطین بنانا ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس کے سامان بھی کیے جارہے ہیں۔ ڈومیسائل قانون کے علاوہ ہاؤسنگ قانون بھی بنایا گیا ہے جس کے تحت جھگی جھونپڑی والوں کے لیے 2 لاکھ گھر بنائے جائیں گے اور یہ 2 لاکھ گھر مقامی آبادی کو نہیں ملیں گے کیونکہ کوئی بھی مقامی کشمیری جھونپڑی میں رہائش پذیر نہیں ہے بلکہ جھونپڑیوں میں وہی بیرونی لوگ بود و باش اختیار کیے ہوئے ہیں جو برسہا برس سے یہاں ٹھہرے ہوئے ہیں۔
کل یہ 2 لاکھ گھر 2 لاکھ کنبے ہوں گے اور ان کنبوں میں مزید کئی لاکھ مکین ہوں گے جو سب کے سب غیر مقامی ہوں گے اور یوں آبادی کا تناسب تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔
اسی طرح نئی انڈسٹریل پالیسی کی منظوری دی گئی ہے جس کے تحت اب غیر کشمیری صنعتکار یہاں کارخانے لگا سکتے ہیں اور اس کے لیے سنگل ونڈو سسٹم کے تحت حکومت ان کے لیے تمام سہولیات دستیاب رکھے گی۔
نئی صنعتی پالیسی کو بھی لوگ فلسطین اسرائیل پلاٹ کے ایک حصہ کے طور دیکھ رہے ہیں جس کا مقصد مقامی صنعتکاروں کو دیوار سے لگانا اور مقامی مسلم آبادی کو اصل میں باہر کے بڑے کارپوریٹ گھرانوں کے طفیلی بنانا ہے تاکہ وہ خود انحصاری سے نکل کر انحصاریت کی راہ پر گامزن ہوسکیں۔
اتنا ہی نہیں، اب تو فوج کو بھی اسٹریٹجک یا تذویراتی علاقوں کی نشاندہی کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور ایک دفعہ فوج کسی علاقے کو اسٹریٹجک ایریا قرار دے دے تو وہاں اس کو کسی قسم کی بھی تعمیراتی سرگرمی انجام دینے کے لیے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے جبکہ 5 اگست سے قبل یہاں معمولی سی تعمیر کے لیے بھی فوج کو حکومت سے اجازت لینے کی ضرورت تھی اور فوج زمین خریدنے کی اہل نہ تھی بلکہ صرف سرکاری زمین پٹے پر لینے اور نجی اراضی کرائے پر لینے کا اختیار رکھتی تھی لیکن اب یہ بندش نہیں رہی۔
اب فوج جہاں چاہے زمین لے سکتی ہے اور اس کے لیے اس علاقے کو محض اسٹریٹجک علاقہ قرار دینا ہے جس کے بعد وہاں فوجیوں کے لیے فیملی کوارٹرز بھی تعمیر ہوں گے۔ مقامی آبادی کو خدشہ ہے کہ دراصل اب جگہ جگہ فوجی چھاؤنیاں بنیں گی جہاں فوج کی فیملی کالونیاں بنیں گی اور کل یہ فیملی کالونی والے بھی اقامہ کے دعویٰ گزار ہوں گے۔
پاکستان اور کشمیر
5 اگست 2019ء جب ہوا تو کشمیری اس انتظار میں تھے کہ ان کا ‘وکیل’ خاموش نہیں بیٹھے گا اور وہ جوابی کارروائی کرے گا۔ یہ امیدوار انتظار بے وقت اور بے مطلب نہیں تھا لیکن انتظار ہے کہ کبھی ختم ہی نہ ہوا۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں عمران خان کی تقریر کچھ پل کے لیے زخموں پر مرہم کا کام کرگئی لیکن وہ زخم پھر ہرے ہوگئے جب عمل موقوف رہا۔ کچھ دیر کے لیے یکجہتی کا علامتی اظہار ہوا لیکن پھر خاموشی چھا گئی اور وہ خاموشی ابھی تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر خطاب کر رہے ہیں—تصویر: اے پی
وزیراعظم عمران خان نے اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر خطاب کر رہے ہیں—تصویر: اے پی
زبانی جمع خرچ سے اس بار کشمیریوں کی دل بہلائی نہیں ہوسکتی کیونکہ وار شدید تھا لیکن افسوس کہ ‘وکیل’ کی وکالت بھی بے تکی رہی اور دفاع بھی نہ کرپایا حالانکہ جو اقدام اٹھایا گیا، اس سے مسئلہ کشمیر کی ہئیت یکسر تبدیل ہوکر رہ گئی۔
پہلے متنازع علاقہ کو 2 مرکزی زیرِ انتظام علاقوں میں تقسیم کیا گیا۔ اس کے بعد پشتینی باشندگی قوانین منسوخ کیے گئے۔ کشمیر کی بنیاد اقوامِ متحدہ کی قراردادیں ہیں اور ان قراردادوں میں واضح لکھا گیا ہے کہ منقسم کشمیر کے مقامی باشندے ہی رائے شماری میں حصہ لے کر اپنی قسمت کا فیصلہ کریں گے لیکن دہلی نے مقامی باشندگی کا تصور ہی ختم کردیا۔
اب اقامتی قانون ہے۔ آنے والے برسوں میں آبادیاتی تناسب یکسر تبدیل ہوجائے گا۔ پھر اگر خدانخواستہ کبھی اقوامِ متحدہ قراردادوں پر عملدرآمد کا وقت آیا بھی تو اس وقت کون یہ پہچان کرے گا کہ مقامی کون ہے اور غیر مقامی کون کیونکہ سب خلط ملط ہوچکا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیری 5 اگست کی کارروائی کو پاکستان کی اسٹیٹ پالیسی پر بھی حملہ سمجھ رہے تھے لیکن پاکستان کی خاموشی کو اب ایک طرح سے مودی سرکار کی کارروائی کی قبولیت سے تعبیر کیا جارہا ہے۔
چین اور کشمیر
جب 5 اگست کا واقعہ ہوا تو چین نے اس پر شدید احتجاج کیا۔ احتجاج کی وجہ یہ تھی کہ متنازع کشمیر کے ایک حصہ ‘لداخ’ کی سرحدیں چین سے ملتی ہیں اور جب لداخ کو کشمیر سے الگ کرکے براہِ راست دہلی کی نگرانی میں لیا گیا تو یہ بیجنگ کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بیجنگ نے سخت مؤقف اختیار کیا۔
اب لداخ میں چین اور بھارت آمنے سامنے آئے ہیں۔ بیشتر مبصرین لداخ میں چینی چڑھائی کو 5 اگست کے فیصلوں سے جوڑ رہے ہیں اور اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ دہلی نے بیجنگ کو لداخ پر چڑھائی کے لیے جواز فراہم کیا۔ بلاشبہ یہ ایک وجہ ہوسکتی ہے تاہم بھارت کو روکنا چین کی مجبوری بن چکی تھا کیونکہ بھارت نہ صرف سی پیک بلکہ آبنائے ملائکہ اور جنوبی بحیرہ چین کے لیے بھی بیجنگ کے لیے درد سربن چکا تھا۔
بیجنگ کو لگا کہ لداخ کے راستے دہلی کو روکنا کرنا مناسب رہے گا اور انہوں نے اپنے مفادات کے دفاع کے لیے یہی راستہ اختیار کیا جس سے اب کافی حد تک سی پیک محفوظ ہوچکا ہے بلکہ دہلی بھی اب چین کے لیے مسائل پیدا کرنے سے پہلے کئی بار سوچے گی لیکن کشمیر کو کیا ملا؟
یہ سوال سننے میں تو آسان ہے لیکن جواب اتنا ہی تلخ۔ مقامی آبادی کہتی ہے کہ چینی چڑھائی سے کشمیر کو کچھ نہیں ملا اور نہ ہی کچھ مل پائے گا کیونکہ چین جیسی کم گو اور پُر اسرار طاقت کے لیے اپنے مفادات ہی مقدم ہیں اور چین کشمیر کے لیے دہلی سے سینگ لڑانے کی سوچ بھی نہیں سکتا ہے کیونکہ بالآخر بھارت چین کے لیے ایک بہت بڑی منڈی ہے اور بیجنگ زیادہ دیر تک اس حقیقت سے آنکھیں نہیں چراسکتا۔
آگے کیا ہوگا؟
کشمیر سکتے میں ہے۔ حکومتی چابک کو دیکھتے ہوئے لبوں پر مہرِ خاموشی ہے۔ کشمیر سسک سسک کر مر رہا ہے لیکن اندر ہی اندر لاوا پک رہا ہے اور یہ لاوا کب آتش فشاں بن کر پھوٹ پڑے، کچھ وثوق کے ساتھ نہیں کہا جاسکتا۔ فی الوقت صورتحال یہ ہے کہ بھارت اور پاکستان، دونوں کشمیر کھوچکے ہیں۔
ایک زمانہ تھا جب کشمیر میں دلوں پر پاکستان کا راج ہوا کرتا تھا جب زمین پر بھارت کی حکمرانی تھی لیکن آج اگست 2019ء کے بعد یہ حالت ہے کہ کشمیری پاکستان سے نالاں اور دہلی سے پریشاں ہیں۔ آج دل نہ اسلام آباد کے لیے دھڑکتا ہے اور نہ دماغ پر دہلی کی حکمرانی ہے۔ ایک نے عریاں کیا تو دوسرے نے سہارا تک نہ دیا۔ یوں کشمیری نہ اب وکالت کا منتظر ہے اور نہ جبر سے خوفزدہ۔ ایک زندہ چلتی پھرتی لاش ہے جو اپنی آخری منزل کی تلاش میں ہے۔
5 اگست 2019ء کی کارروائی کا ڈراپ سین کیا ہوگا، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن آثار وقرائن بتارہے ہیں کہ وقت کے بطن میں کچھ اچھا نہیں پل رہا ہے اور جب اس کا ظہور ہوگا تو بھارت اپنے آپ کو داخلی اور خارجی سطح پر ایک ایسے گرداب میں پائے گا جس سے خلاصی اگرچہ ناممکن نہیں لیکن انتہائی کٹھن ضرور ہوگی۔
