Input your search keywords and press Enter.

تنازع کشمیر عالمی ضمیر کیلئے بڑا چیلنج

ظارق کمال قاضی

قسط  2

ایکٹ 1935 ء کےسیکشن 6 کے مطابق نوابی ریاستیں وفاق ِانڈیا کے ساتھ الحاق کرسکتی تھیں بشر طیکہ گورنر جنرل ریاست کے حکمران کی طرف سے پیش کردہ الحاق کی درخواست منظور کرلیں۔ لیکن اس شق کی رو سےکسی ریاست کو وفاق میں شامل ہونے پر مجبور نہیں کیا جاسکےگااور نہ ہی ریاست کی مرضی کے خلاف اس پر کوئی شرط عائد کی جائے گی۔

اب یہ سوال کہ برطانوی راج ختم ہونے کے بعد نوابی ریاستوں کی حیثیت کیا ہوگی؟ اس بات کو کرپس مشن رپورٹ 1942 ء کے علاوہ کیبنٹ مشن میں بھی زیر ِبحث لایا گیا ۔اور ان دونوں نے تسلیم کیا کہ برطانوی ہند کی جگہ قائم ہونے والی ریاستوں کونوابی ریاستوں پر کوئی اختیار حاصل نہ ہوگا۔

آزادی ہند ایکٹ 1947 ء کے مطابق دوآزاد ریاستیں، پاکستان اور بھار ت ، قائم کی جائیں گی او ر ان دونوں کے لیے تاج برطانیہ ایک ایک گورنرجنرل مقرر کرے گا۔ سیکشن 7 کے مطابق تاج برطانیہ کے نوابی ریاستوں کے ساتھ کیے گئے تمام معاہدے اور تحریر کردہ تمام دستاویزات ختم ہوجائیں گی۔ تاہم اگر کوئی نوابی ریاست چاہے تو وہ کسی ایک ریاست کے ساتھ شامل ہونے کے لیے آزاد ہوگی ۔ اس لیے کہ نوابی ریاستوں کو پاکستان اور بھارت سے بھی زیادہ آزادی مل گئی تھی کیونکہ آزادی ملنے کے بعد بھی ان دونوں ریاستوں (پاکستان اور بھارت) پر تاج ِ برطانیہ کے نامزد کردہ گورنرجنرلوںکو حکومت کرناتھی ،تاہم نوابی ریاستوں کا اس کے بعد تاج ِبرطانیہ سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا تھا اور نہ ہی برطانوی راج کو اس پرکوئی اختیار تھا۔

اگرچہ آزادی ہند ایکٹ 1947 ء میں درج تھا کہ زیادہ تر نوابی ریاستیں خودمختار ہی رہیں گی لیکن بھارتی حکومت اکھنڈ بھارت کی سوچ رکھتی تھی ۔ گویا وہ اس تمام خطے کو ایک ناقابل ِتقسیم جغرافیائی سرزمین سمجھتی تھی اور اس میں مختلف نوابی ریاستوں کا وجود اس کے لیے ناقابل ِقبول تھا،چنانچہ رفتہ رفتہ تمام نوابی ریاستیں بھارت میں شامل کی جانے لگیں۔

انڈیا کی تقسیم کے ساتھ ہی جموں اور کشمیر ایک خودمختار ریاست بن گئ، جس پر مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی ۔ مہاراجہ کشمیری نہیں بلکہ ڈوگرہ راجپوت ہندو تھا۔ ریاست میں مسلمان اکثریت میں تھے لیکن ہندئووںکی بھی آبادی تھی ۔ وادی ٔ کشمیر کو16 مارچ 1846 ء کوگلاب سنگھڈوگرہ نے انگریزوں سے معاہدہ امرتسر کے تحت 75 لاکھ روپے میں خریدا تھا ۔مہا راجہ کے پاس پہلے سے ہی لداخ اور جموں تھے ۔1845ء میں لڑی جانے والی پہلی اینگلو سکھ جنگ کے بعد سکھوں نے معاہدہ لاہور کے تحت 9 مارچ 1846 ء کو کشمیر انگریزوں کے حوالے کردیا تھا۔

مہاراجہ آزادرہنا چاہتا تھا ۔اس لیے اُس نے اپنے دفاع کے لیے بھارت سے مدد مانگی ۔ اُسے بتایا گیا کہ اس مقصد کے لیے اُسے بھارت سے الحاق کے معاہدے پر دستخط کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ان حالات میں اس نے 26 اکتوبر 1947ء کو حکومت ہند ایکٹ 1935 ء کے تحت معاہدے پر دستخط کردیے ۔جس کے مندرجات درج ذیل ہیں:

(a)مہاراجہ نے الحاق کے معاہدے پر دستخط کیےجو مشروط تھے، شق نمبر 1 سے:

b))مہاراجہ نے تسلیم کیا کہ بھارتی ریاست کی اسمبلی ریاست جموں اور کشمیر کے لیے دفاع، امور ِخارجہ، مواصلات اور دیگر معاون امور تک محدود قانون سازی کرسکتی ہے ۔ (شق نمبر 3)

(c)حکومت ِہند کے قانون 1935 ء یا آزادی ٔ ہند ایکٹ 1947 ء میں کی گئی کوئی بھی تبدیلی اس معاہدے کی شقوں کوتبدیل نہیں کرسکے گی، تاوقتیکہ مہاراجہ کسی ضمنی شق پر متفق ہوجائے ۔ (شق نمبر 5)

(d)معاہدے کی کوئی بھی شق مہاراجہ کو بھارت کے کسی بھی مستقبل کے آئین کو قبول کرنے یا حکومت ہند کے ایکٹ کے تحت کسی اور بندوبست میں شریک ہونے پر پابند نہیں کرتی ہے۔ (شق نمبر 7)

(e)مہاراجہ کا ریاست پر بدستور اختیار، حق اور اتھارٹی برقرار رہے گی، سوائے اس کے جو معاہدے میں طے پائے ہیں۔ (شق نمبر 8)

لارڈ مائونٹ بیٹن نے معاہدہ تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت چاہتی ہے کہ امن و امان کی بحالی کے بعد الحاق کا معاملہ عوام کی خواہش کے مطابق طے کیا جائے ۔

الحاق کے معاہدے نے بھارتی پارلیمنٹ کو صرف تین مخصوص امور میں قانون سازی کا اختیار دیا تھا۔ جو مہاراجہ کو مستقبل میں کسی آئینی بندوبست میں شامل ہونے سے نہیں روکتا سکتے تھے۔ اُس وقت تک ریاست کا اپنا آئین نہیں بنا تھا ۔ دوسرے الفاظ میں الحاق کا فیصلہ مستقبل کے بندوبست کی بنیاد پر ریاست کے عوام کی صوابدید پر ہونا تھا ۔ مزید یہ کہ ریاست کی حتمی حیثیت کا تعین اقوام ِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرار دادوں کی روشنی میں کیا جانا تھا ۔ جوکشمیر پر بھارت اور پاکستان کے درمیان مسلح کشمکش کا حل نکالنے کے لیے منظور کی گئی تھیں۔ ان حالات کی روشنی میں آئین کا آرٹیکل 370 عارضی طور پر ریاست جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کا تحفظ کرتا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے