انڈیا کی حکومت نے اپنے زیرانتظام کشمیر کی سیاسی رہنما محبوبہ مفتی کی 14 ماہ کی نظربندی ختم کرتے ہوئے اس حوالے سے پہلے جاری کردہ تمام احکامات واپس لے لیے ہیں۔
محبوبہ مفتی مسلح شورش کے بعد ہند نواز سیاست کو مقبول بنانے والی پہلی خاتون سیاست دان ہیں۔
پچھلے سال اگست میں حکومت ہند نے کشمیر کو حاصل نیم خودمختاری ختم کرکے لداخ کو ریاست سے الگ کرکے جموں کشمیر کو براہ راست مرکزی انتظام والا خطہ یعنی یونین ٹیریٹری قرار دیا تھا۔
سابق وزرائے اعلیٰ فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور دیگر سابق وزرا اور اراکین اسمبلی کے ساتھ ساتھ محبوبہ مفتی کو بھی گذشتہ برس کے اگست میں نظربند کیا گیا ،جس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ انڈین وفاق کے اندر رہتے ہوئے خصوصی اختیارات کا مطالبہ کرنے والی سیاسی جماعتوں کا دائرہ کار نہایت تنگ ہوگیا ہے۔
ظاہر ہے اس فیصلے کی مخالفت ہندنواز سیاست دان ہی کرتے، لہٰذا فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی اور اس سوچ کے دیگر رہنماؤں کو جیلوں یا گھروں میں نظربند کیا گیا۔
طویل نظر بندی کے بعد معروف رہنماؤں میں سے محبوبہ مفتی کو سب سے آخر میں رہا کیا گیا ہے۔
