Input your search keywords and press Enter.

بھارت کی وزارتِ داخلہ نے پیر کو جموں و کشمیر کے اراضی قوانین میں بڑے پیمانے پر ردّوبدل کی ہے اور تمام بھارتی شہریوں کو علاقے میں اراضی خریدنے اور دیگر غیر منقولہ جائیداد کا مالک بننے کا اہل بنا دیا ہے۔

ترمیم شدہ قوانین کے تحت زرعی اراضی کو غیر زرعی مقاصد کے لیے منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس پر تعلیمی ادارے، اسپتال اور دیگر طبی سہولیات کے لیے تعمیرات کی جا سکتی ہیں۔

نئے قوانین کے مطابق زمین کے مالک کو اس بات کا اختیار ہو گا کہ وہ اپنی زرعی اراضی کسی غیر کاشت کار کو بھی فروخت کر سکتا ہے یا اس کا تبادلہ کر سکتا ہے۔ جس کے بعد زمین لینے والا شخص اس اراضی کو غیر زرعی مقاصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

بھارتی حکومت کے اس اقدام کے خلاف سرینگر اور جمّوں میں گزشتہ چار روز سے مسلسل احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ان مظاہروں کا اہتمام مختلف سیاسی جماعتیں، جو مقامی اصطلاح میں ‘مین اسٹریم پارٹیز’ کہلاتی ہیں، کر رہی ہیں۔

جمعرات کو پولیس نے کشمیر کے گرمائی صدر مقام سرینگر میں ہونے والے ایک مظاہرے کے دوران علاقائی جماعت ‘پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی’ (پی ڈی پی) کے درجنوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ پولیس نے پارٹی کے صدر دفاتر کو، جہاں سے انہوں نے ایک جلوس نکالنے کی کوشش کی تھی، عارضی طور پر سیل کر دیا ہے۔

نئے اراضی قوانین کے خلاف وہ جماعتیں بھی احتجاج کر رہی ہیں جو بھارت کے حکومتی حلقوں کے قریب سمجھی جاتی ہیں۔ ان میں پروفیسر بھیم سنگھ کی ‘نیشنل پینتھرس پارٹی’ اور حال ہی میں تشکیل دی گئی ‘جمّوں و کشمیر اپنی پارٹی’ بھی شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے