بھارتی حکومت نے اپنے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں علاقائی سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کے بعد سیاسی بدامنی پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوے 75 کشمیری سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا ۔ کشمیر میڈیا کے مطابق نئی دہلی نے اپوزیشن کے خلاف کریک ڈاؤن کیا اور پر امن مظاہرین کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوے 75 کشمیری سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا ۔
علاقائی جماعت اور اتحاد کے ایک اہم رکن نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے کہا کہ نظربندیاں عوام کے فیصلے کو مجروح کرتی ہیں۔سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ عمر عبداللہ نے کہا کہ اتحاد کی فتح سے پتہ چلتا ہے کہ کشمیریوں نے مودی کے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے فیصلے کو قبول نہیں کیا ہے۔طویل نظربندی سے رہائی کے بعد ، جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ ، عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے اکتوبر میں کشمیر کی خودمختاری کی پرامن بحالی کے لئے اتحاد کا اعلان کیا تھا۔
