
ہمارے ایک ایسے لیڈر کی میں بات کرہا ہوں کہ جنکی حکمرانی ہماری عام زندگی پر برسوں تک رہی۔ انہوں نے حکم دیا سو جاو، تو ہمیں’کم کرن“ کی طرح مہینوں تک سونا پڑا اور انہوں نے کہا چلو تو رینگتے، لنگڑاتے ہوئے ہمیں چلنا پڑا پھر اچانک ایک دن انہوں نے اپنے مشن کی گاڑی گہرے نالے میں گراکر خود سنیاس لیا۔
خیر مجھے یہاں اپنے موضوع کے حوالے سے ان کی ایک بات ضبط از قلم کرنی ہے۔ جب عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم بنے تو انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پاکستان کے وزیراعظم کو وہاں کے احمدیوں کے حقوق کی حفاظت کر لینی چاہئے۔ اس پر یہاں کے ایک مقامی مولوی صاحب سخت برہم ہو گئے اور انہوں نے انہیں درجواب کہا کہ لیڈر صاحب آپ وہاں کی فکر کیوں کرتے ہیں یہاں کیا ہمارے مسائل کی کمی ہے کہ جن پر بات نہیں ہوسکتی ہے؟
ٹھیک اسی طرح آپ مجھے سوال کریں گے کہ یہاں ہمارے اپنے مسائل کی کمی نہیں ہے کہ آپ پنجاب کے زمینداروں کی بات کرنے لگے؟ ۔ دراصل میں زمین کی ہی بات کروں گا، چاہے وہ پنجاب کی ہو یا کشمیر کی ہو یا کہیں اور کی ہو!۔
ہمارے بزرگ کہتے تھے کہ پنجاب کو” اناج کا کٹھہار“ کہا جاتا ہے۔ دراصل ان بے چاروں کو پتہ نہیں ہوتا تھا کہ ’پنجاب‘ کیا ہے۔ ان میں ایک آدھ موجودہ پاکستانی پنجاب، اوڈی کے راستے مزدوری کرنے کے لئے گیا ہوا ہوگا، تو ہم آج اس پنجاب کی بات کر رہے ہیں جہاں کے کسان قریباً پچھلے دو مہینوں سے اپنے حق کے لئے لڑرہے ہیں اور اب ان کے بیٹے اور پوتے بھی اپنے کام کاج یہاں تک کہ نوکری کو چھوڑ کر بھی ان کی تحریک میں شامل ہو گئے ہیں۔ یہ لوگ اس لئے لڑ رہے ہیں کہ نوکری، اسٹیٹس اور دیگر کاروبار سے بڑھ کر ہماری اپنی زمین ہے جو سیدھے ہمارے وارثوں تک منتقل ہو جاتی ہے۔ باقی چیزیں تو آنی جانی ہے!۔
ان کسانوں کے ساتھ آخر کیا ظلم ہو رہا ہے۔ چونکہ کسان سب سے زیادہ محنت کر کے کافی غلہ پیدا کرتا ہے، حسب قانون سرکار اس کے پیدا کردہ اناج کو مناسب داموں پر خرید لیتی تھی۔ تو اس طرح کسان بھی خوش اور سرکار بھی اسی طرح چلتی تھی۔ لیکن اب کے بار جب سے مودی کی سرکار آئی تو انہوں نے سرکار کو ا س معاملے سے دور کیا اور سیدھے امبانی وغیرہ کو کہا کہ آپ اپنی مرضی کے مطابق کسانوں سے یہ سارا اناج خرید لو اور اس پر اپنا لیبل لگاکر مہنگے داموں فروخت کر لو۔ جس کی مثال حال ہی میں ایک فیس بک پوسٹ پرہم نے یہ دیکھی کہ کھیتوں سے خریدا گیا دوروپئے کا گوبی ایک کلو چھہ سو روپئے میں امبانی کے لیبل کے ساتھ بیچا جاتا ہے۔
اب یہ ان محنت کش کسان سڑکوں پر نہ آئے گا تو اور کیا کر ے گا۔ یہ تحریک آگے کس سمت کی جانب جائے گی، وہ تو وقت ہی بتائے گا کیونکہ ہمارے سامنے شاہین باغ والا معاملہ بھی ہے۔ لاکھ قربانیوں کے باوجود بھی کرونا کے سامنے ان با ہمت مستورات کوہتھیار ڈالنے ہی پڑے۔!
اب ہم کشمیر اور اس تحریک کے حوالے سے بات کریں گے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ پلوامہ حملہ؟ اور اس کے بعد موب لنچنگ میں باہر کشمیریوں کے ساتھ جوسلوک کیا گیا، اس میں ہم ”خالصہ ایڈ“ کی خدمات کو کبھی بھی فراموش نہیں کر سکتے ہیں اور اس کو اپنے لئے بار احسان سمجھتے ہیں۔
اب جہاں تک کہ کشمیر میں زرعی اراضی کا تعلق ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں مختلف نعمتوں سے مالا مال کیا ہے۔ مگر نہ ہم کبھی اسکاشکر ادا کرتے ہیں اور نہ ان نعمتوں کاصحیح استعمال کرتے ہیں، جسکے نتیجے میں ہمیں اکثر یہ طعنے سننے کو ملتی ہیں، اگر ’بانہال سرنگ‘ مہینوں کے لئے بند ہو جائے گی تو پتہ چلے گا!۔ دراصل یہ محاورہ ہماری بے حسی اور کائرتا کو دیکھ کر گڑ لیا گیا ہے، جس کو آج ہمیں بدلنا ہوگا۔
کیوں نہ ہم ایک بار اپنے پاو ¿ں پر کھڑا ہوکر(I) اپنی تمام تر کاشت اراضی سے سونا پیداکریں۔ (II) شاہ ہمدان صاحبؒ دین اسلام کے ساتھ ساتھ جو دست کاری یہاں لے کر آئے تھے ایک تو اس دین کی پیروی کریں گے اور اس دستکاری کو فروغ دیں گے۔ فروغ دینے کا صرف مطلب یہی ہے کہ پہلے خود ہم زیادہ سے زیادہ مقامی چیزوں کا ہی استعمال کریں گے۔ (III) ”جنت کشمیر“ کا مطلب ہے کہ کشمیر کو ہر طرح سے صاف اور پاک رکھیں گے اور سیاحت کے شعبہ ¿ کو سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر زیادہ سے زیادہ بڑھاوا دیں گے۔ یہی تین چیزیں ہماری ر یڑھ کی ہڈی ہے اور باقی معاملات دھیرے دھیرے خود بخود سدھر سکتے ہیں۔ جب پیٹ خالی ہو تو اللہ اللہ کرنے کی بھی ہمت نہیں ہوتی ہے اور ہم اپنی مدد نہیں کر پاتے ہیں، دوسروں کی بھلائی کاکیا سوچیں گے!۔ٍ
