Input your search keywords and press Enter.

اقوام متحدہ کی مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹریس نے پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کیلئے ثالثی کی پیش کش ایک ایسے وقت کی ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان بظاہر کوئی بڑی کشیدگی نہیںچل رہی ہے، بلکہ بھارت کے اندرونی حالات نہایت ناگفتہ بہ ہیں کیونکہ پورے بھارت میں کسان اپنے حقوق کے حصول کیلئے سراپا احتجاج ہیں، اگست 2020ء سے شروع ہونے والا کسانوں کا احتجاج ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے’ 26 جنوری کومودی حکومت نے یوم جمہوریہ کے طور پر منایا لیکن کسانوں نے 2لاکھ سے زائد ٹریکٹرز کیساتھ لال قلعہ کے سامنے احتجاج، بلکہ لال قلعہ پر خالصتان تحریک کا پرچم بھی لہرا دیا’ اسی طرح کسانوں کے احتجاج میں پاکستان زندہ باد اور خالصتان کے نعرے بھی لگائے گئے ‘ بڑھتی ہوئی اندرونی خلفشار سے ممکن ہے مودی سرکاری یہ نتیجہ اخذ کربیٹھی ہو کہ بھارت کے اندرونی حالات کا فائدہ اُٹھا کر پاکستان کشمیر کے حوالے سے کوئی منصوبہ تشکیل دے رہا ہو، اس لیے انہوں نے اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو پیغام پہنچانے کی کوشش کی، تاکہ پاکستان موجودہ صورتحال میں کسی بھی اقدام سے گریز کرے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے مابین تنازع کی سب سے بڑی وجہ ہے ‘ پاکستان کشمیر پر یکطرفہ اقدام کی بجائے اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا چاہتا ہے کیونکہ پاکستان کے نزدیک مسئلہ کشمیر دو ممالک کے درمیان سیاسی مسئلہ ہے، جسے مذاکرات اور گفت و شنید کے ذریعے سیاسی طور پر حل ہونا چاہیے، لیکن بھارت مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کی قراردادوںکے مطابق حل کرنے کے حق میں نہیں ہے، کیونکہ اسے معلوم ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت ہے ‘ سلامتی کونسل کی قراردادیں یہ کہتی ہیں کہ مقامی لوگوں کو استصواب رائے کا حق دیا جانا چاہیے جس میں وہ خود فیصلہ کریں کہ انہوں نے پاکستان یا بھارت میں سے کس کیساتھ الحاق کرنا ہے’ بھارت نے اپنا مکارانہ ذہن استعمال کرتے ہوئے کشمیرکی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کیلئے 5اگست2019ء کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کیلئے یکطرفہ اقدام اُٹھایا’ بھارت کی پارلیمنٹ نے آرٹیکل 370اور 35اے کو ختم کر کے کشمیر کو تقسیم کرنے کا فارمولا پیش کیا’ یوں کشمیر کی آئینی حیثیت تبدیل کر کے بھارت نے کشمیر میں ہندوؤں کو زمینیں خریدنے اور آبادکاری کی اجازت دیدی’ بھارت کے یکطرفہ اقدام کے بعد کشمیریوں کی زندگی جو پہلے ہی اجیرن تھی مزید مشکل ہو گئی ہے کیونکہ کشمیریوں کی تعداد کے برابر ان پر فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں’ حالانکہ بھارت کی طرف سے جب کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ کیا جا رہا تھا تو اس کیخلاف پوری دنیا میں احتجاج کیا گیا’ اقوام متحدہ سے مداخلت کر کے بھارت کو اس امر سے باز رہنے کا مطالبہ کیا گیا، تاہم اقوام متحدہ نے اس طرف کوئی توجہ نہ دی’ اب جبکہ بھارت کو اندرونی مسائل درپیش ہیں اور ان حالات میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی بات کی گئی ہے تو امید کی جانی چاہئے کہ یہ پیشکش بھارت کو موجودہ بحران سے نکالنے کیلئے محض وقتی نہیںہوگی بلکہ حقیقی معنوں میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی عالمی سطح پر سنجیدہ کوشش کی جا رہی ہے’ اقوام متحدہ اور عالمی قوتوںکو مسئلہ کشمیر پر اس لیے بھی مداخلت کرنی چاہئے کیونکہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی قوتیں ہیں’ اگر دونوں ممالک کے درمیان متنازعہ مسائل کو حل نہ کیا گیا تو پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ چھڑنے کے قوی امکانات موجود ہیں، جو خطے کے دیگر ممالک بلکہ پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہو سکتے ہیں’ سیکرٹری جنرل نے بھی اس جانب اشارہ کیا ہے، اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق متنازع مسائل کو حل کرنے کیلئے بھارت پر زور دیں’ اس کی ابتداء لاکھوں بھارت افواج کے کشمیر سے انخلاء کی صورت ہونی چاہئے، بھارت افواج کی جگہ کشمیر میں اقوام متحدہ کے امن دستے تعینات کئے جائیں اور کشمیر کا ایسا حل نکالا جائے جو کشمیر کی حریت قیادت اور پاکستان کو قبول ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے