سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جمو ں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے مقبوضہ علاقے اوربھارتی جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظر بندحریت رہنمائوں ، کارکنوں اورکشمیری نوجوانوں کی حالت زار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ انکی رہائی کیلئے بھارت پر دبائو ڈالیں۔
ذرائع کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈووکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ بھارت نے حریت رہنمائوں سمیت تین ہزار سے زائد کشمیریوں کو جھوٹے مقدمات میں جیلوں میں ڈال رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی بڑی تعداد میں نظر بندی کا مقصد انہیں بھارتی تسلط سے آزادی کے مطالبہ کی پاداش میں انتقامی کارروائی کا نشانہ بنانا ہے۔ تاہم بھارت ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو ہرگز دبا نہیں سکتا۔انہوں نے کہا کہ کچھ نظر بند ایسے بھی ہیں جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے جیلوں میں ہیں جن میں ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، غلام قادر بٹ، نذیر احمد شیخ، محمد ایوب ڈار، محمد ایوب میر، جاوید احمد خان، فیروز احمد ڈار، عبدالحمید تیلی، طارق احمد متو، محمود ٹوپی والا، بشیر احمد پنوں، فیاض احمد ، شریف الدین گجر محمد اشرف پیر، خالد محبوب پھلوان، مقصود احمد بھٹ، پرویز احمد میر، محمد عباس وانی، فاروق احمد شیخ، عبدالوحید، عبدالرشید میر اور فہد اللہ شامل ہیں۔
حریت کانفرنس کے ترجمان نے کہا کہ حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یسین ملک، نعیم احمد خان، آسیہ اندرابی، ایاز اکبر، شاہد الاسلام، معراج الدین کلوال، پیر سیف اللہ، فاروق احمد ڈار،فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، ڈاکٹرحمیدفیاض، مشتاق الاسلام، مولوی بشیر احمد عرفانی، بلال صدیقی، محمد رفیق گنائی، ظفر اکبر بٹ، فاروق احمد توحیدی، غلام محمد خان سوپوری، عمر عادل ڈار، سلیم ننہ جی، محمد یاسین بٹ، فیاض حسین جعفری ،شوکت حکیم ،، محمد حیات بٹ ، معراج الدین نندہ ، یاسین بت، انجینئر رشید کو بھارت اور مقبوضہ علاقے کی جیلوں میں بدترین جسمانی تشدد اور متعصبانہ رویے کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔انہوں نے نشاندہی کی کہ مسلسل نظربندی اور جسمانی اور ذہنی اذیت کے باوجود تمام حریت رہنماں اور کارکنوں کے حوصلے بلند ہیں اور وہ کشمیر کاز کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کو حریت رہنماں اور کارکنوں پر فخر ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ نریندر مودی اور امیت شاہ کی قیادت میں بی جے پی کی بھارتی حکومت مقبوضہ جموں و کشمیر میں جائز سیاسی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے اپنی عدلیہ کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ترجمان نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ کشمیر میں سیاسی اختلاف رائے کو کچلنے کے لیے ریاستی جبر کے استعمال کو روکنے کے لیے بھارت پر دبا ڈالے۔
