سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز: آزاد کشمیر کے سابق صدر اور امریکہ،چین و اقوام متحدہ میں پاکستان کے سابق سفیر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ امریکی سفیر سرجیو گور کا کشمیر سے متعلق بیان درست نہیں، جس سے مسئلہ جموں و کشمیر کی تاریخ اور موجودہ صورتحال سے عدم واقفیت ظاہر ہوتی ہے، امریکی سفیر کو دورہ مقبوضہ کشمیر سے قبل امریکہ کی کشمیر پالیسی اور مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک درجن سے زائد قابلِ عمل قراردادوں کے بارے میں بریفنگ حاصل کرنی چاہیے تھی۔ ایک ٹی وی انٹرویو میں سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی قبضے والے جموں و کشمیر کی حیثیت سے متعلق امریکی سفیر سے منسوب بیان درست نہیں، کیونکہ امریکہ نے اپنی پالیسی میں کوئی باضابطہ تبدیلی نہیں کی اور نہ ہی جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سفارت کاروں کو محکمہ خارجہ اور متعلقہ سفارتی مشنز میں ذمہ داریاں سنبھالنے سے قبل جامع بریفنگ دی جاتی ہے، اس لیے اس بیان کو محض عدم معلومات کا نتیجہ قرار دینا مشکل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر کا دورہ کرنے والے کسی بھی سفیر سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ متنازع خطے کی حساسیت اور فریقین کے دیرینہ مؤقف سے آگاہ ہو۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ امریکہ تاریخی طور پر کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرتا رہا ہے اور مسئلہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی بحث اور قراردادوں میں بھی اس کا کردار رہا ہے۔ مسئلہ جموں و کشمیر آج بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے اور اس سے متعلق قراردادیں نہ تو منسوخ ہوئی ہیں اور نہ ہی ان پر عمل درآمد ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سفیر کا بیان قانونی طور پر درست نہیں اور موجودہ حالات میں سیاسی اعتبار سے بھی نامناسب ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب پاکستان اور امریکہ کے تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ مرکزِ حق کے واقعے اور پاکستان بھارت جنگ بندی کے بعد صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ تجارت کو فروغ دینے کے ساتھ مسئلہ کشمیر بھی حل کریں۔انہوں نے اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس مؤقف کا بھی حوالہ دیا کہ پاکستان اور بھارت اپنے باہمی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور بات چیت کریں۔
انہوں نے کہا کہ ان پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن کی جموں و کشمیر سے متعلق پالیسی میں کوئی باضابطہ تبدیلی نہیں آئی، لہٰذا امریکی سفیر سے منسوب بیان کو اس وقت تک پالیسی میں تبدیلی قرار نہیں دیا جا سکتا جب تک امریکی محکمہ خارجہ باضابطہ طور پر اس کی توثیق نہ کرے۔ سردار مسعود خان نے امریکی سفیر کے سری نگر اور لداخ کے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے الفاظ کا انتخاب نامناسب تھا، تاہم سفیر کو خطے کے مختلف حصوں کا دورہ کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ لداخ کا دورہ امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی تزویراتی و معاشی مسابقت اور امریکہ بھارت اسٹریٹجک تعلقات کے تناظر میں وسیع تر جغرافیائی سیاسی پیغام بھی دے سکتا ہے۔
انہوں نے امریکی سفیر کے بیان پر دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے احتجاجی مراسلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے مناسب طور پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور واضح کیا کہ جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے جس کی حتمی حیثیت متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق طے ہونی ہے۔ سردار مسعود خان نے کہا کہ اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی ذرائع سے مزید رابطے جاری رہیں گے اور امید ہے کہ امریکہ واضح کرے گا کہ جموں و کشمیر سے متعلق اس کے دیرینہ مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
