سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم
اکتوبر 1947ء کی وہ سرد صبح برصغیرِ پاک و ہند کی تاریخ میں ایک ایسے سیاہ ترین باب کا پیش خیمہ ثابت ہوئی جس نے خطے کے امن کو ہمیشہ کے لیے داؤ پر لگا دیا۔ تقسیمِ ہند کے طے شدہ اصولوں اور کشمیری عوام کی مسلمہ امنگوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے، بھارتی فضائیہ کے ڈکوٹا طیارے سکھ رجمنٹ کے مسلح فوجیوں کو لے کر سری نگر کے ہوائی اڈے پر اترے۔ اس اچانک اور غاصبانہ فوجی مداخلت نے جموں و کشمیر کی وادی کو ایک دلفریب خطے سے دیکھتے ہی دیکھتے ایک مقبوضہ محصور علاقے میں تبدیل کر دیا، جہاں برطانوی راج کے خاتمے پر آزادی کا خواب دیکھنے والے کشمیریوں کو بندوق کے زور پر غلامی کی زنجیروں میں جکڑ لیا گیا۔
بھارتی جارحیت کے اس ابتدائی معرکے کے بعد جب یہ دیرینہ تنازعہ اقوامِ متحدہ کے مہیب ایوانوں تک پہنچا، تو سلامتی کونسل نے خطے میں امن کی بحالی اور منصفانہ حل کے لیے متعدد تاریخی قراردادیں منظور کیں۔ ان دستاویزات میں واضح طور پر تسلیم کیا گیا کہ جموں و کشمیر کے حتمی مستقبل کا فیصلہ کسی بیرونی جبر کے بغیر، وہاں کے غیور عوام کی آزادانہ مرضی اور استصوابِ رائے (Plebiscite) کے جمہوری طریقے سے کیا جائے گا، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ نئی دہلی کی حکمران قیادت نے ان بین الاقوامی وعدوں کو تسلیم کرنے کے باوجود کبھی وفا نہ ہونے دیا اور یوں عالمی طاقتوں کی چشم پوشی کے باعث یہ جغرافیائی اور انسانی مسئلہ نوآبادیاتی دور کی ایک حل طلب یادگار بن کر رہ گیا۔
کشمیر کی اس خونچکاں تاریخ میں 5 اگست 2019ء کو ایک بار پھر پے در پے تغیرات رونما ہوئے، جب مودی حکومت نے اپنے ہندوتوا نظریات کے تحت آئینِ ہند کے آرٹیکل 370 اور 35-A کو یکطرفہ طور پر منسوخ کر کے مقبوضہ جموں و کشمیر کی رہی سہی نیم خودمختار حیثیت کا بھی خاتمہ کر دیا۔ اس آئینی شب خون کا بنیادی مقصد وادی کی صدیوں پرانی مسلم اکثریتی شناخت اور ڈیموگرافی کو تبدیل کرنا تھا، جس کے بعد پوری ریاست کو دنیا کی سب سے بڑی فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر کے مواصلاتی بلیک آؤٹ اور طویل ترین لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔
اسی تاریخی پس منظر کے تناظر میں، ہر سال 27 اکتوبر کو دنیا بھر کے تمام براعظموں میں مقیم کشمیری اور پاکستانی عوام اس دن کو “یومِ سیاہ” کے طور پر مناتے ہیں، جہاں ایک طرف ریاستِ پاکستان اپنے دیرینہ، اصولی اور سفارتی مؤقف پر قائم رہتے ہوئے کشمیریوں کی سیاسی و اخلاقی حمایت کا اعادہ کرتی ہے، تو دوسری طرف عالمی دارالحکومتوں میں احتجاجی مظاہروں کے ذریعے بین الاقوامی برادری کے سوئے ہوئے ضمیر کو جھنجھوڑا جاتا ہے۔ الغرض، 27 اکتوبر محض گزرے ہوئے وقت کا کوئی ورق نہیں، بلکہ کشمیری عوام کی لازوال قربانیوں، سات دہائیوں پر محیط حقِ خودارادیت کی تحریک اور ان کے ناقابلِ تسخیر عزم کی وہ تاریخی علامت ہے جو یہ پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ جب تک کشمیریوں کو ان کا بنیادی انسانی حق نہیں مل جاتا، تب تک برصغیر میں پائیدار امن اور استحکام کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
