Input your search keywords and press Enter.

کشمیریوں کو ملک بھر میں کاروبار اور روزگار سے روکنا تشویشناک ہے، غلام علی

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ۔ پارلیمنٹ کے رکنِ غلام علی کھٹانہ نے ایک انٹرویو میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے مزدوروں، تاجروں، کاروباری افراد اور ریڑی فروشوں پر ریاست سے باہر ہونے والے حالیہ حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں اب چھوٹے سے چھوٹا واقعہ بھی فوراً منظرِعام پر آ جاتا ہے، جبکہ ماضی میں ایسے کئی واقعات رپورٹ ہی نہیں ہو پاتے تھے۔ غلام علی کھٹانہ نے کہا کہ اتراکھنڈ میں پیش آئے حالیہ واقعے کے بعد پولیس نے کشمیریوں کو ہراساں کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ہے، جو ایک مثبت قدم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت ایک بڑا اور جمہوری ملک ہے اور کشمیریوں کو پورے ملک میں کاروبار، ملازمت اور تجارت کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔

غلام نبی کھٹانہ کا تعلق جموں شہر سے ہے اور وہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ گوجر طبقے سے تعلق رکھنے والے کھٹانہ کو پارٹی نے گزشتہ سال پارلیمنٹ کیلئے نامزد کیا۔ اس سے قبل وہ سیاسی طور کبھی منظرعام پر نہیں آئے تھے۔ غلام علی کھٹانہ کو ریاستی درجہ کی بحالی کے مطالبے پر پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت سے قبل جموں و کشمیر میں نوجوانوں کی جانیں جا رہی تھیں، پتھراؤ اور جنازے روز کا معمول بن چکے تھے۔ تاہم 2014 کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت نے ان حالات پر قابو پایا اور خطے میں ترقی کا عمل شروع ہوا۔ کشمیر کا نوجوان ذہین ہے وہ ملک کی تعمیر ترقی میں اپنا رول اچھے سے ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج جموں و کشمیر کے نوجوان اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں اور ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات نہیں ہوں گے لیکن انتخابات وقت پر منعقد ہوئے۔ اسی طرح وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کی جانب سے کئے گئے وعدے کے مطابق ریاستی درجہ بھی بحال کیا جائے گا۔ ریزرویشن کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں اور بغیر مکمل معلومات کے انہیں بھڑکا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر 75 فیصد ریزرویشن جنرل لائن سے تعلق رکھنے والی کیٹیگریز جیسے ایس سی، ای ڈبلیو ایس، اے ایل سی اور او بی سی کے لئے ہے، پھر یہ کہنا کہ جنرل کیٹیگری کے لیے کوئی ریزرویشن نہیں، درست نہیں۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *