سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں پوسٹرز کے ذریعے کشمیری عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ 11 فروری کو معروف حریت رہنما شہید محمد مقبول بٹ کے یوم شہادت کے موقع پر مکمل ہڑتال کریں اور اس دن کو کشمیری شہداء کی قربانیوں کی یاد کے طور پر منائیں۔
ذرائع کے مطابق بھارت نے محمد مقبول بٹ کو 11 فروری 1984ء کو نئی دہلی کی تہار جیل میں پھانسی دی تھی۔ اسی جیل میں 09 فروری 2013ء کو محمد افضل گرو کو بھی پھانسی دی گئی تھی اور دونوں رہنماؤں کے جسد خاکی کو جیل کے اندر دفن کر دیا گیا۔ پوسٹرز میں شہداء محمد مقبول بٹ اور محمد افضل گرو کی تصاویر بھی شامل تھیں اور کہا گیا کہ کشمیر میں بھارت کے غیر قانونی قبضے کے خلاف شہداء کی جدوجہد جاری رہے گی۔ پوسٹرز میں 1947ء سے 5 لاکھ سے زائد شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کی قربانیوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حق خودارادیت کی مقدس جدوجہد کے طور پر یاد دلایا گیا۔ علاوہ ازیں ان پوسٹروں میں بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ کشمیری قیدیوں، بشمول طویل ترین قید کا سامنا کرنے والے مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ اور ڈاکٹر محمد قاسم فکتو کی حالت پر توجہ دیں جو اپنے جائز مطالبات کے لیے تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے قید میں ہیں۔ پوسٹرز میں یہ بھی کہا گیا کہ کشمیری عوام بھارت اور ہندوتوا قوتوں کے عزائم کو ناکام بنائیں گے اور لوگوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنی زمینیں غیر کشمیریوں کو فروخت نہ کریں کیونکہ بھارت مقبوضہ علاقے کی مسلم شناخت کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
مقبوضہ کشمیر، مقبول بٹ کے یوم شہادت پر 11فروری کو مکمل ہڑتال کی اپیل
