سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں صحت کی دیکھ بھال کے شعبے کو افرادی قوت کے شدید بحران کا سامنا ہے اور ڈاکٹروں کی 802 اسامیاں خالی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان اعداد و شمار کا انکشاف عمر عبداللہ کی سربراہی میں قائم نیشنل کانفرنس کی حکومت نے اسمبلی میں کیا۔ محکمہ صحت اور طبی تعلیم (ایچ اینڈ ایم ای) نے رکن اسمبلی رنبیر سنگھ پٹھانیا کے تحریری جواب میں انکشاف کیا کہ ان اسامیوں میں 24 سینئر کنسلٹنٹس، 253 کنسلٹنٹس، 458 میڈیکل آفیسرز اور 67 ڈینٹل سرجن شامل ہیں۔مقبوضہ وادی کشمیر کے دور دراز کے تمام ہسپتالوں میں کنسلٹنٹ کے عہدوں کی ایک قابل ذکر تعداد خالی پڑی ہے، جس سے خصوصی صحت کی دیکھ بھال کی خدمات بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔ جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ میڈیکل آفیسرز کی 480 آسامیاں بھرتی کے لیے پبلک سروس کمیشن کو بھیجی گئی ہیں، کنسلٹنٹ کی آسامیاں، جو جدید طبی دیکھ بھال فراہم کرنے کے لیے اہم ہیں، کو ابھی تک سلیکشن کے لیے بھیجا جانا باقی ہے، جس سے مقبوضہ وادی میں ضروری خدمات میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ ان کلیدی عہدوں کو پر کرنے میں مسلسل تاخیر نے معیاری صحت کی دیکھ بھال تک رسائی کے بارے میں سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ یاد رہے کہ مودی مقبوضہ علاقے میں تعمیر و ترقی کے بلند بانگ دعوے کر رہی ہے تاہم یہ اعداد و شمار ان دعوﺅں کا منہ چڑھا رہے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر، صحت کی دیکھ بال کا شعبہ شدید بحران کا شکار
