سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (سرینگر) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ آرٹیکل 370کبھی بھی جموںوکشمیرکی ترقی میں رکاوٹ نہیں رہا اور نہ ہی اسکی منسوخی کے بعد خطے میں کوئی غیر معمولی معاشی انقلاب برپا ہوا ہے۔
میڈیا سورسز کے مطابق عمر عبداللہ نے سرینگر میںایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ دفعہ 370کو ہمیشہ جموںوکشمیرکی پسماندگی کی وجہ قرار دیا جاتا رہا حالانکہ حقیقت اسکے برعکس ہے ۔ انہوںنے کہاکہ آرٹیکل 370 نہ تو ترقی میںرکاوٹ تھا اور نہ ہی اسکی منسوخی کے بعد ترقی دیکھنے کی ملی ۔انہوںنے کہا کہ کسی بھی خطے کی ترقی کے لیے امن و استحکام بنیادی شرط ہے ۔
عمر عبداللہ نے بی جے پی کی بھارتی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اس نے دفعہ 370کو محض ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ۔انہوںنے کہاکہ بھارت کی کئی ریاستوں میں خصوصی آئینی تحفظات اور زمین سے متعلق پابندیاں موجود ہیں لیکن ان پر کبھی بھی اس انداز سے اعتراض نہیں کیا گیاجس طرح جموںکشمیرکے بارے میں کیا جاتا رہا ۔ انہوںنے ریاستی درجے کی بحالی کے سوال پر کہا کہ یہ انکی حکومت کی پہلی ترجیح ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ریاستی درجہ ملنے سے حکمرانی کانظام موثر اور جوابدہ بن سکے گا ۔ انہوں نے اعتراف کیاکہ اس وقت انکی حکومت کے اختیارات محدود ہیں، جس کی وجہ سے عوامی مسائل کے حل میںمشکلات پیش آتی ہیں لہذا ریاستی درجے کی بحالی ضروری ہے۔
