Input your search keywords and press Enter.

یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر قم المقدسہ ایران میں میں کشمیریوں سے یک جہتی کیلئے ایک کانفرنس

یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر قم المقدسہ میں ایک پُر وقار علمی و فکری کانفرنس کا انعقاد ہوا، جس میں مختلف علمائے کرام اور محققین نے مظلوم کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور امتِ مسلمہ کی اخلاقی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔

رپورٹ: سید فصیح کاظمی

تفصیلات کے مطابق قم المقدسہ میں ۲۷ اکتوبر کو یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر قم المقدسہ میں ایک پُر معنی اور بامقصد کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، جس میں علمائے کرام، محققین، طلباء اور مختلف تنظیموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اس نشست کا مقصد کشمیری عوام کی مظلومیت کو اجاگر کرنا اور امتِ مسلمہ کو حمایتِ مظلوم کے فریضے کی یاد دہانی کرانا تھا۔

محفل کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کا شرف سید احتشام کاظمی نے حاصل کیا۔ بعد ازاں مقررین نے کشمیر کے حالات اور عالمِ اسلام کے مجموعی حالات پر اظہارِ خیال کیا۔ مقررین نے کہا کہ ۲۷ اکتوبر کا دن امتِ مسلمہ کے ضمیر کے بیدار ہونے کا دن ہونا چاہیے۔

آغا بشیر دولتی نے حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی ولادتِ باسعادت کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ بی بی زینب مقاومت، صبر اور حق گوئی کی روشن علامت ہیں اور کشمیریوں کیلئے بہترین اسوہ ۔

سید فراز نقوی نے کہا کہ کشمیر کی سب سے بڑی مظلومیت یہ ہے کہ اس کی فریاد دنیا کے شور میں دب گئی ہے، اور عالمی بے حسی نے اس زخم کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

منظور حسین حیدری نے حضرت بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی ولادت کے موقع پر عقیدت و احترام سے لبریز قصیدہ پیش کیا، جس نے محفل کے ماحول کو روحانیت سے بھر دیا۔

آقای شبیر سعیدی نے کہا کہ پورا عالمِ اسلام کسی نہ کسی درجے میں غلامی کے بندھن میں جکڑا ہے لیکن کسی کو اس کا احساس نہیں لیکن فرق یہ ہے کہ کشمیریوں کو اپنی غلامی اور اپنے مقبوضہ ہونے کا شعور ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری گھروں میں ظلم و ستم کی داستانیں آج بھی زندہ ہیں۔

مقررین نے کہا کہ امتِ مسلمہ کی غفلت اور باہمی انتشار مسئلہ کشمیر کے طویل ہونے کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔
اس موقع پر ڈاکٹر فردوس میر نے کہا کہ “کشمیر کا مظلوم دم توڑتا ہے مگر بول نہیں سکتا۔” انہوں نے کہا کہ کشمیری نوجوانوں کو منشیات سمیت طرح طرح کی سازشوں میں پھنسایا کا رہا ہے۔ مظلوم کی حمایت شیعت کا جوہر ہے اور بی بی زینب سلام اللہ علیہا اسی روح کی مجسم تعبیر ہیں۔

آقای شفقت شیرازی نے کہا کہ کشمیر محض ایک جغرافیائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی اور اخلاقی فریضہ ہے۔

اختتام پر مقررین نے کشمیری عوام کی حمایت اور ان کی آزادی کے لیے علمی و اخلاقی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *