سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (جموں) بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں ضلع راجوری میں بھارتی فورسز کا تلاشی آپریشن آج مسلسل 36ویں روز بھی جاری ہے ۔ قابض فورسز نے آپریشن میں مزید تیزی لائی ہے۔
ذرائع کے مطابق بھارتی فورسز نے راجوری کے گمبیر مغلان کے ڈوریمل جنگلات میں یہ آپریشن 23مئی کو شروع کیا تھا اور اس میں ہزاروں اہلکار ،جنگی ہیلی کاپٹر، ڈورن ، سراغ رساں کتے حصے لے رہے ہیں۔ آپریشن میں بھارتی فوج کی سرپرستی میں قائم بدنام زمانہ ملیشیا ویلیج ڈیفنس گارڑز بھی شریک ہیں ۔ قابض فوج نے یہ ملیشیا خاص طور پر جموںخطے کے مسلمانوں کو خوف ودہشت کا شکار کرنے کیلئے قائم کی ہے۔
بھارتی حکام کاکہنا ہے کہ ”آپریشن شیر والی“کے نام سے بڑے پیمانے پر جاری تلاشی کی یہ کارروائی وسیع جنگلاتی علاقے میں متعدد عسکریت پسندوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر شروع کی گئی ہے ۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ علاقے کی جغرفیائی ساخت ، گھنے جنگلات ،گہری کھائیا ں اور بلند پہاڑیاں آپریشن کو پیچیدہ بنا رہی ہیں ۔
فورسز اہلکار جنگلات کے مختلف حصوں ، پہاڑی راستوں ، قدرتی غاروں ، ندی نالوں کی باریک بینی سے تلاشی لے رہے ہیں ، علاقے کے حساس مقامات پر نگرائی مزید سخت کر دی گئی ہے ۔ قابض بھارتی فورسز نے مختلف داخلی اور خارجی راستوں پر چوکیاں قائم کر رکھی ہیں جن پر گاڑیوں اور ان میں سوار مسافروں کی سخت تلاشی لی جارہی ہے۔ طویل آپریشن کی وجہ سے علاقہ مکمل طورپر ایک جنگی زون کا منظر پیش کر رہاہے اور مقامی لوگ شدید مشکلات کا شکا رہیں۔
