سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (جموں) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے ضلع کٹھوعہ میںدرجنوں کسانوں نے کٹھوعہ نالے کو صاف کرنے اور تجاوزات ہٹانے میں ناکامی پر حکام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔
ذرائع کے مطابق احتجاج کرنے والے کسانوں کا کہنا تھا کہ کٹھوعہ نالہ قصبے سے بارش کے پانی کا اہم راستہ ہے۔ پچھلے سال کے سیلاب کے دوران یہ اوپر تک مٹی سے بھر گیا اور بارشوں کے دوران پانی زرعی زمین میں داخل ہو گیا۔دو روز قبل ہونے والی شدید بارشوں سے نالے کا پورا پانی کھیتوں میں داخل ہو گیا، دھان کی فصل اور مویشیوں کے لیے بویا گیا چارہ بہہ گیا۔ جن کسانوں کی فصلیں بہہ گئیں، ان کا کہنا ہے کہ انہیں بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑاہے ۔انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ نالے کی فوری طور پر صفائی شروع کی جائے اور اس کی زمین پر سے تمام تجاوزات کو ہٹایا جائے تاکہ پانی آسانی سے بہہ سکے۔ انہوں نے نالے میں پولی تھین پھینکنے پر پابندی لگانے کا بھی مطالبہ کیا جو صحت کے لیے خطرہ ہے۔علاقے کے ایک سیاسی رہنما دیویندر سنگھ نے کہا کہ ایک درجن سے زائدکسانوں کی فصلیں تباہ ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معمول کی بارش تھی جس نے کسانوں کے لیے تباہی مچا دی اور مون سون کی شدید بارشوں کے دوران صورتحال مزید خراب ہو جائے گی، اس لیے حکام کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ایک اورمتاثرہ کسان دیپ سنگھ نے خبردار کیا کہ اگر حکام نے نالے کو فوری طور پر صاف نہ کیا اور تجاوزات نہ ہٹائیں تو کسان سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے۔
