سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) :غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سوپور بار ایسوسی ایشن نے تحصیلدار کے جابرانہ رویے کے خلاف مسلسل ساتویں دن ہڑتال جاری رکھی۔
ذرائع کے مطابق بار ایسوسی ایشن کے ترجمان نے ایک بیان میں بتایاہےکہ وکلا نے احتجاج 19 اگست کو اس وقت شروع کیاتھا جب ایڈووکیٹ محمد وسیم تحصیل دفتر گئے تو افسر نے ان کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی، لاک اپ بھیجنے کی دھمکی دی اور “سنگین انجام” سے ڈرایا۔
بار ایسوسی ایشن نے اس رویے کو قانونی پیشے کے وقار کی توہین اور وکلاء کی پیشہ ورانہ آزادی میں مداخلت قرار دیا۔ انہوں نے معاملے کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔قانونی حلقوں کے مطابق، یہ واقعہ مقبوضہ کشمیر میں بیوروکریٹک سرکشی کی ایک اور مثال ہے، جہاں افسران نئی دہلی کے اشاروں پر کام کرتے ہیں۔ اس سے قبل پونچھ میں ایک مقامی جج کے ساتھ بھی پولیس نے فرائض کی ادائیگی کے دوران بدسلوکی کی تھا۔
