Input your search keywords and press Enter.

شیخ غلام حسن کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے پر سینکڑوں افراد کے خلاف مقدمات درج

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز ـ (سرینگر)غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی پولیس نے ممتاز عالم دین اور جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے سابق امیر شیخ غلام حسن کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے پر نوجوانوں اور جماعت اسلامی کے ارکان سمیت سینکڑوں افراد کے خلاف مقدمات درج کئے ہیں ۔

میڈیا سورسز مطابق مقدمات 16مئی کو کولگام میں شیخ غلام حسن کی نماز جنازہ اور تدفین میں ہزاروں لوگوں کی شرکت کے بعد درج کئے گئے۔عینی شاہدین نے بتایا کہ خوف و ہراس کے ماحول کے باوجود بزرگوں اور نوجوانوں سمیت لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے مرحوم کی آخری رسومات میں شرکت کی۔ لوگ ایک مقامی مسجد کے لان میں جمع ہوئے جہاں نماز جنازہ ادا کی گئی جس کے بعد میت کو ایک بڑے جلوس کی صورت میں تدفین کے لیے قبرستان لے جایا گیا۔ اس موقع پر مقررین نے شیخ غلام حسن کی مذہبی، سماجی اور تعلیمی خدمات پر روشنی ڈالی اور 2019 میں جماعت اسلامی پر پابندی کے بعد بی جے پی کی زیر قیادت بھارتی حکومت کی طرف سے تنظیم کے خلاف جاری ظالمانہ کارروائیوں کی مذمت کی۔ لوگوںنے بتایا کہ سوگواروں کے خلاف مقدمات کے اندراج سے مقبوضہ علاقے میں بڑھتے ہوئے ظلم و جبر کی عکاسی ہوتی ہے جہاں مذہبی اجتماعات اور جنازے کی تقریبات بھی اب پولیس کارروائی سے محفوظ نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو محض ایک قابل احترام مذہبی شخصیت کی موت پر غم، یکجہتی اور جذبات کا اظہار کرنے پر مجرم بنایا جا رہا ہے۔اس اقدام کو ایک وسیع تر مہم کا حصہ قراردیاجارہا ہے جس کا مقصد مقبوضہ علاقے میں اسلام پسند آوازوں کو خاموش کرنا اورمذہبی ،سماجی اور سیاسی تنظیموں سے وابستہ لوگوں کو ہراساں کرنا ہے۔ مودی حکومت علاقے میں اختلاف رائے کو دبانے اور عوام میں خوف ہ ہراس پیدا کرنے کے لیے پولیس مقدمات، نگرانی اور من مانی پابندیوں کا استعمال کر رہی ہے۔

دریں اثناءپیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے کولگام میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے قابض انتظامیہ سے مطالبہ کیاہے کہ وہ جماعت اسلامی کے سابق امیر شیخ غلام حسن کے جنازے میں اپنے جذبات کا اظہار کرنے والوں کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں بند کرے۔ انہوں نے کہاکہ شیخ غلام حسن نہ صرف جماعت کے سربراہ بلکہ ایک عالم دین بھی تھے۔محبوبہ مفتی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ یہ بدقسمتی ہے کہ محض غم اور جذبات کے اظہار پر سوگواروں کے خلاف مقدمات کا اندراج کیا جارہا ہے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *