سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) :غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قبائلی گجر بکروال ویلفیئر فاؤنڈیشن نے کشتوارکے علاقے چترو میں ایک سرکاری ملازم کی طرف سے ایک کم عمر بچی کے ساتھ بار بار جنسی زیادتی، حمل اور بعد ازاں موت کے معاملے میں شیڈولڈ ٹرائبز کمیشن سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاؤنڈیشن نے متاثرہ خاندان کے تحفظ اور آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن چترو میں مقدمہ درج کر لیا گیاہے۔تنظیم کے مطابق ملزم نے اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھا کر پانچویں جماعت کی طالبہ کے ساتھ زیادتی کی، جس سے وہ حاملہ ہو گئی۔ فاؤنڈیشن نے الزام عائد کیا کہ حکام نے دھمکیوں، مالی پیشکشوں اور حمل ظاہر ہونے کے بعد کمیونٹی پنچایت بلا کر معاملہ دبانے کی کوشش کی۔انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی کی حکومت کے دور میں خواتین اور بچوں کے خلاف جنسی تشدد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، اور اکثر ملزمان کو حکمران جماعت یا ریاستی اداروں کے تحفظ کی وجہ سے سزا سے بچا لیا جاتا ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ ہندوتوا پالیسیوں نے مجرموں کی حوصلہ افزائی کی ہے اور احتساب کے عمل کو کمزور کیا ہے، جس سے کمزور طبقات، خاص طور پر اقلیتیں اور قبائلی گروہ، زیادہ خطرے میں ہیں۔
