سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز: ملک بھر خصوصاً آزاد و مقبوضہ جموں و کشمیر میں حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کی 5 ویں برسی آج عقیدت و احترام کیساتھ منائی جا رہی ہے۔ سید علی گیلانی وہ شخصیت تھے جنہوں نے اپنی زندگی کی تقریباً 7 دہائیاں کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی آواز بلند کرنے میں گزاریں، انکی آخری سانسوں میں بھی “پاک سرزمین” کا نام ان کی زبان پرتھا اور وہ پاکستان کی سلامتی و حفاظت کی دعا کرتے رہے۔ قائد حریت سید علی گیلانی کیلئے جدوجہدآزادی صرف سیاست نہیں بلکہ شناخت، اصول اورایمان کا معاملہ تھی جس پر وہ تاحیات قائم رہے، انہوں نے کم عمری ہی سے خطے کی سیاست میں قدم رکھا اور وقت کیساتھ کشمیر کی سیاسی زندگی کے اہم پلیٹ فارمز کا حصہ بنتے گئے۔ سید علی گیلانی 1972ء، 1977ء اور 1987ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانون سازاسمبلی کے رکن بھی رہے، انہوں نے زندگی کے آخری 11 برس سری نگر کے حیدرپورہ میں اپنے ہی گھر میں نظر بندی کی حالت میں گزارے۔ قید تنہائی اور پابندیاں بھی سید علی گیلانی کے الحاق پاکستان اور کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کے عزم کو کمزور نہ کر سکیں، یکم ستمبر2021ء کو سید علی شاہ گیلانی حیدرپورہ میں بدستور اپنے گھر میں نظربند رہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ قائد حریت سید علی شاہ گیلانی کے جسد خاکی کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا گیا۔
امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے قائد حریت سید علی گیلانی کی پانچویں برسی پر اپنے پیغام میں کہا کہ سید علی گیلانی کشمیری عوام کے دلوں کے ترجمان تھے، انکی جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سید علی گیلانی نے ساری زندگی تحریک آزادی کشمیر کیلئے وقف کر دی تھی، انکے نعرے “ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے” سے کشمیری عوام کے حوصلے بلند ہوئے، بھارتی حکومت اور اس کی قابض فوج سید علی گیلانی کے حوصلے پست نہیں کر سکی۔
