Input your search keywords and press Enter.

”ڈی ایف پی “ کا کشمیر پر ”او آئی سی“ کی حالیہ قرار داد کا خیر مقدم

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (اسلام آباد) : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی (ڈی ایف پی) نے کشمیریوں کی حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کی حمایت کا اعادہ کرنے پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا شکریہ ادا کیا ہے۔

 ذرائع کے مطابق، او آئی سی نے 17-18 اکتوبر 2026 کو بغداد میں منعقدہ وزرائے خارجہ کونسل کے 52 ویں اجلاس میں تنازعہ جموں و کشمیر پر قرارداد نمبر 3/52-پی او ایل منظور کی۔

تفصیلات کے مطابق ڈی ایف پی کے قائم مقام چیئرمین محمود احمد ساغر نے ”او آئی سی “کے سیکرٹری جنرل سیکرٹری جنرل اسماعیل الشیخ احمد کے نام ایک خط میں اس قرارداد کا خیرمقدم کیا جس میں اقوامِ متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق، اقوامِ متحدہ کی زیرِ نگرانی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے جموں و کشمیر کے عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کی واضح توثیق کی گئی ہے۔

محمود احمد ساغر نے 5 اگست 2019 کے بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور اس کے بعد اٹھائے گئے ان اقدامات کو مسترد کرنے پر او آئی سی کی تعریف کی، جن کا مقصد جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت اور آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں یہ واضح موقف کہ ملکی قانون سازی اور عدالتی فیصلے علاقے کی متنازعہ حیثیت کو ختم نہیں کر سکتے‘، انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ او آئی سی کے اس اعتراف کا بھی خیرمقدم کیا کہ جموں و کشمیر کے عوام اس تنازعے میں بنیادی فریق ہیں اور انہیں کسی بھی امن عمل میں شامل کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اسے ایک لازمی اصول قرار دیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ان کی آزادانہ رضامندی کے بغیر کوئی بھی تصفیہ ان پر مسلط نہ کیا جائے۔

انہوں نے قرارداد میں انسانی حقوق اور انسانی ہمدردی کے امور پر دیے گئے زور کو سراہا۔ اس میں کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی، بنیادی آزادیوں پر عائد پابندیوں کے خاتمے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات اور اقوامِ متحدہ کے میکانزم اور بین الاقوامی مبصرین کو بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرنے کے مطالبات شامل ہیں۔

ڈی ایف پی رہنما نے اقوامِ متحدہ میں مسئلہ کشمیر کو اٹھانے کے حوالے سے او آئی سی کے مسلسل عزم، اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کی جانب سے تیسری تازہ ترین رپورٹ کی تیاری کے مطالبے اور او آئی سی کی جانب سے بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں ’حقائق جاننے والے مشن‘ بھیجنے کے مطالبے کو خصوصی طور پر سراہا۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد میں کشمیری عوام کے لیے ان کے حقِ خود ارادیت کے جائز حصول تک مسلسل سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت کے اعادے کا اعادہ ان لوگوں کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ہے جنہوں نے پرامن سیاسی جدوجہد جاری رکھتے ہوئے دہائیوں تک مصائب برداشت کیے ہیں۔

محمد احمد ساغر نے او آئی سی کے جنرل سیکرٹریٹ اور رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ مربوط سفارتی کوششوں، اقوام متحدہ میں مسلسل وکالت اور غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کے ذریعے اس قرارداد پر موثر عمل درآمد کو یقینی بنائیںاور کشمیریوں کی جائز قیادت کے ساتھ رابطوں کو مزید مستحکم کریں۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *