Input your search keywords and press Enter.

مقبوضہ کشمیر: ہائیکورٹ کا کالے قانون”پبلک سیفٹی ایکٹ“ کے غلط استعمال پر اظہار برہمی

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کالے قانون” پبلک سیفٹی ایکٹ“ (پی ایس اے) کے غلط استعمال پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاہے سنگین الزامات بھی آئینی اور قانونی تحفظات کو ختم نہیں کر سکتے۔

ذرائع کے مطابق جسٹس وسیم صادق نرگل پر مشتمل بنچ نے یہ بات ”پی ایس اے“ کے تحت نظر بندایک کشمیری کی عرضداشت پر سماعت کے دوران کہی۔

عدالت زبیر امین بنگرو کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کر رہی تھی۔عدالت نے کہا کہ حکام کو مواد کے ذریعے یہ ظاہر کرنا چاہیے کہ قانونی تقاضوں کو آزادانہ اور قانونی طور پر پورا کیا گیا ہے۔

بنچ نے کہا کہ نظر بندی ایک غیر معمولی اقدام ہے جس میں باقاعدہ فوجداری مقدمے کے بغیر ذاتی آزادی سے محرومی شامل ہے، عدالت نے کہا کہ آرٹیکل 21 اور 22 کے تحت آئینی تحفظات کو خالی رسمی نہیں سمجھا جا سکتا۔

بنچ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے بات کا اعادہ کیا کہ نظر بندی کو انتہائی احتیاط اور حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔

عدالت نے ڈپٹی کمشنر سری نگر کو، جنہوں نے نظر بندی کا حکم نامہ جاری کیا تھا، کو ذاتی طور پر پیش ہونے اور پولیس ڈوزیئر اور ریکارڈ سمیت اصل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *