سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (سرینگر) : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماوں نے بیج بہاڑہ قتل عام کے شہداءکو انکی 33 ویں برسی کے موقع پر شاندار خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق 22 اکتوبر 1993 کو جنوبی کشمیر کے ضلع اسلام آباد کے علاقے بجبہاڑہ میں 50 سے زائد بے گناہ کشمیری اس وقت شہید ہو گئے تھے جب بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے اہلکاروں نے سری نگر میں حضرت بل درگاہ کے بھارتی فوجی محاصرے کے خلاف احتجاج کرنے والے پرامن مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کر دی تھی۔
حریت کافنرنس کے رہنماﺅں نے سری نگر سے جاری اپنے بیانات میں کہا کہ وہ دن دور نہیں جب شہداکی قربانیوں کے نتیجے میں کشمیری عوام آزادی اور سیاسی انصاف حاصل کر لیں گے۔
اس قتل عام کے 33 سال بعد بھی، متاثرین کے خاندان انصاف کے منتظر ہیں کیونکہ کسی بھی مجرم کو سزا نہیں دی گئی۔ اس کے برعکس، اس خونریزی کے ذمہ دار افسران کو ترقیوں سے نوازا گیا، جس سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی کارروائیوں کے دوران ‘استثنیٰ کا کلچر’ (یعنی سزا سے بچ جانے کا ماحول) قائم ہے۔
اے پی ایچ سی رہنماوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا نوٹس لیں۔ انہوں نے کہا کہ 1947 میں کشمیر میں بھارت کی فوجی مداخلت نے اس خطے کو طویل عدم استحکام اور تشدد کی نذر کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت سے بھارت کا مسلسل انکار اس خطے کے لیے موت، تباہی اور مصائب کا باعث بنا ہے۔
رہنماوں نے سیاسی ناانصافی کے خاتمے اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کو یقینی بنانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ مقبوضہ علاقے میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اس دیرینہ تنازعے کے حل میں موثر کردار ادا کرے۔
حریت رہنماوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ علاقے میں 10 لاکھ سے زائد بھارتی فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کے باعث کشمیری عوام شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
