سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل نیوز (جموں) : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ڈوڈہ سے رکن قانون ساز اسمبلی معراج ملک نے کہا ہے کہ اگست 2019 میں 370 اور 35A دفعات کے خاتمے سے خطے میں عسکریت پسندی کا خاتمہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ آئینی دفعات علاقے کے عوام کے حقوق اور شناخت کے تحفظ کے لیے ایک ڈھال کی حیثیت رکھتی تھیں۔
معراج ملک ، جو عام آدمی پارٹی سے وابستہ ہیں،نے جموں میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نے کہا کہ پورے بھارت میں ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا گیا تھا کہ دفعہ 370 ہی سے مقبوضہ علاقے میں عسکریت پسندی ہے، لیکن اب یہ دفعہ ختم کی جاچکی ہے لیکن اس کے باوجود میں علاقے میں امن و امان کی صورتحال خرا ب ہے۔
انہوں نے یہ دفعات مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق کے حوالے سے ایکڈھال کی حیثیت رکھتی تھیں۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ 2019 کے بعد ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیں اور اپنے حقوق کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کریں۔ انہوں نے دفعہ 370 اور 35A، اور عوام کے حقوق و شناخت کے تحفظ میں ان کے کردار پر ایک سیر حاصل بحث کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
معراج ملک نے پنچایت اور دیگر مقامی انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا اور کہا کہ انہیں ریاست کا درجہ بحال ہونے کی شرط سے مشروط نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا یہ بیان مقامی انتخابات کے حوالے سے جاری سیاسی بحث کے دوران سامنے آیا ہے، جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے انتخابات کرانے کے مطالبات اور بھارتی حکومت کی جانب سے ریاست کا درجہ بحال کرنے میں تاخیر کے درمیان موازنہ کیا ہے۔
معراج ملک نے عمر عبداللہ پر تنقید کرتے ہوئے،کہا کہ وزیر اعلیٰ میں ریاست کا درجہ بحال کرانے کے لیے مو¿ثر انداز میں دباو¿ ڈالنے کا عزم نہیں ہے۔ عمر عبداللہ کو چاہیے کہ وہ عوام کی جانب سے دیے گئے مینڈیٹ کا استعمال کرتے ہوئے نئی دہلی سے ریاست کا درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کریں، نہ کہ مقامی انتخابات کو اس کی بحالی سے مشروط کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ نچلی سطح پر انتخابات میں تاخیر سے مقامی طرزِ حکمرانی میں عوام کی شرکت پر منفی اثر پڑے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیوروکریسی کی رکاوٹیں ترقیاتی کاموں میں حائل ہیں اور عوامی فنڈز کو ان کے اصل حقداروں تک پہنچنے سے روک رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام نے حکومت کے دو سالہ دورِ اقتدار کے دوران کوئی ٹھوس بہتری نہیں دیکھی، تو انہیں حکومت سے بازپرس کرنے کا حق حاصل ہے۔
