سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ۔ حکومتِ آزاد کشمیر مہاجرینِ جمون کشمیر 1989ء کی تکالیف کا ادراک کرتے ہوئے زمین، گھر اور روزگار کیلئے آبادکاری منصوبے کا اعلان کرے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر سے 1989ء کے بعد ہجرت کرنے والے مہاجرین آج بھی بنیادی انسانی سہولیات سے محروم زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ مہاجرین مختلف مہاجر بستیوں اور کرائے کے مکانات میں کسمپرسی اور غیر یقینی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ان خیالات کا اظہار عزیر احمد غزالی امیر مہاجرین کشمیر 1989ء نے میڈیا کے نام جاری کیے گئے ایک بیان میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہائیوں قبل قائم کی گئیں مہاجر بستیوں کی موجودہ حالت ایک سنگین انسانی المیے کی عکاس ہے۔ بیس کیمپ حکومتوں کی عدم توجہی، ناقص منصوبہ بندی اور محکمہ بحالیات کی غیر مؤثر کارکردگی کے باعث ان بستیوں میں مسائل وقت گزرنے کے ساتھ مزید گھمبیر ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو، تین مرلے پر تعمیر شدہ کچے پکے مکانات، دو فٹ چوڑی تنگ گلیاں اور چھت سے جڑی چھتیں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہیں، نہ مناسب آمد و رفت کے راستے موجود ہیں اور نہ ہی ایمرجنسی رسپانس کی کوئی سہولت میسر ہے۔
بیمار افراد کو کندھوں پر اٹھا کر سڑک تک لانا پڑتا ہے، حتیٰ کہ اموات کی صورت میں جنازے بھی تنگ گلیوں سے ہاتھوں میں اٹھا کر گزارے جاتے ہیں۔ انہوں نے مہاجر بستی مانکپیاں نمبر دو میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کو تمام مہاجر بستیوں کیلئے خطرناک صورتحال کا عملی ثبوت ہے، جہاں ایک گھر میں لگنے والی آگ دیکھتے ہی دیکھتے چار گھروں تک پھیل گئی۔ یہ واقعہ اس اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ آیا حکومتِ آزاد کشمیر کسی بڑے سانحے کی منتظر ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین کا یہ مجموعی احساس ہے کہ محکمہ بحالیات کی جانب سے زمینی حقائق کے برعکس سرکاری فائلوں اور بریفنگز میں حالات کو بہتر ظاہر کیا جانا مہاجرین کے ساتھ خاموش ظلم کی مانند ہے۔جبکہ عملی طور پر مہاجر بستیوں میں مقیم ہزاروں خاندان گھٹن، خوف اور مسلسل خطرات کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مہاجرین جموں کشمیر 1989ء ورکنگ کمیٹی گزشتہ دو برسوں سے حکومت آزاد کشمیر سے مسلسل مطالبہ کر رہی ہے کہ مہاجرین کے لیے ایک معقول مالی پیکج کا اعلان کیا جائے، جس میں زمین، رہائش اور روزگار کی فراہمی شامل ہو۔ کمیٹی کے مطابق مہاجر بستیوں میں سینکڑوں ایسے خاندان آباد ہیں جو ایک فٹ اراضی سے بھی محروم ہیں اور اپنی رہائشی صورتحال بہتر بنانے سے قاصر ہیں۔ مہاجرین کشمیر کی بستیوں کے صدور، منتخب کونسلرز اور ورکنگ کمیٹی کے اراکین حکومتِ آزاد کشمیر سے مسلسل یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وقتی اور علامتی اقدامات کے بجائے مہاجرین کے مجموعی مسائل کے حل کیلئے ٹھوس، دیرپا اور عملی کا کام کا آغاز کیا جائے تاکہ مہاجرینِ 1989ء کو مزید حادثات اور نقصانات سے بچایا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ مختلف شہروں میں کرائے کے مکانات میں مقیم تقریباً تین ہزار کشمیری مہاجر خاندانوں کی رہائشی مشکلات بھی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آ رہا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومتِ آزاد کشمیر مہاجرینِ جموں کشمیر 1989ء کی آبادکاری کے لیے فوری طور پر یکساں مالی پیکج کی منظوری دے، تاکہ دہائیوں سے جاری یہ انسانی بحران کسی پائیدار اور باعزت حل کی جانب بڑھ سکے۔
