Input your search keywords and press Enter.

بھارت کے فوجی قبضے کے تحت کشمیری خواتین کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا ہے، مقررین ویبنار

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ۔ اتوار کے روز منعقدہ ایک ویبینار کے مقررین نے بھارت کے فوجی قبضے کے تحت کشمیری خواتین کو درپیش شدید مشکلات اور ان کی ثابت قدمی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھاری تعداد میں بھارتی فوجیوں کی موجودگی کے باعث کشمیری خواتین کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق ویبنار کا اہتمام کشمیر میڈیا سروس اور یونائیٹڈ کشمیر جرنلسٹس ایسوسی ایشن نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ تقریب کی نظامت کے فرائض سینئر صحافی ڈاکٹر محمد اشرف وانی اور انسانی حقوق کے کارکن رئیس احمد میر نے انجام دیے۔مختلف پیشہ ورانہ پس منظر سے تعلق رکھنے والے مقررین نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین کو درپیش مشکلات کے سیاسی، قانونی، سماجی اور نفسیاتی پہلوئوں پر روشنی ڈالی۔ آزاد جموں و کشمیر کی سابق وزیر اور دستک کی سی ای او فرزانہ یعقوب نے کنن پوش پورہ جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری خواتین نے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں برداشت کی ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ خواتین کے حقوق کے حوالے سے عالمی سطح پر حساسیت کے باوجود اس مسئلے کو بین الاقوامی فورمز پر موثر انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کم سن بچیوں سمیت کشمیری خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم سے دنیا کو آگاہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ پرنسپل سالیسٹر صوبیہ شال نے کہا کہ بھارت کشمیریوں کو بنیادی حقوق دینے میں ناکام رہا ہے اور اس نے آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA)، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (UAPA) اور پبلک سیفٹی ایکٹ (PSA) جیسے کالے قوانین کے ذریعے اپنی افواج کو مکمل استثنیٰ دے رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جبری گمشدگیاں، من مانی گرفتاریاں اور جنسی تشدد انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر CISS-AJK سیدہ تحریم بخاری نے پروینہ آہنگر، آسیہ اندرابی، آسیہ جیلانی اور زمردہ حبیب جیسی خواتین رہنمائوں کا حوالہ دیتے ہوئے تحریک مزاحمت میں کشمیری خواتین کے تاریخی اور عصری کردار کو اجاگر کیا۔ انسانی حقوق کی کارکن، اینکرپرسن اور پی ایچ ڈی اسکالر نائلہ الطاف نے کشمیری خواتین کی مزاحمت میں ثابت قدمی کو مرکزی عنصر قرار دیتے ہوئے کہا کہ خواتین نے ہمیشہ مردوں کے شانہ بشانہ قربانیاں پیش کی ہیں۔ انہوں نے نوجوان خواتین ادیبوں، اسکالرز اور کارکنوں کی حوصلہ افزائی کرنے پر زور دیا جو ظلم و جبر کے ماحول میں بھی کشمیریت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

ریسرچ آفیسر CISS-AJK، صبا غلام نبی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں خواتین کی بگڑی ہوئی صحت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ طویل تنازعے، مسلسل تنائو اور بھاری تعداد میں فوجیوں کی موجودگی نے خواتین کی تولیدی صحت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل خوف، چھاپہ مار کارروائیوں، ہراساں کیے جانے اور سیاسی غیر یقینی صورتحال نے بہت سی خواتین کو ڈپریشن، ذہنی تنائو اور دیگر نفسیاتی عارضوں میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ صحت کی ناکافی سہولیات نے ان کی مشکلات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس خواتین ونگ کی چیئرپرسن صائمہ ساجد نے کہا کہ مسلسل نظربندیوں، صدمے، جسمانی معذوری اور کنن پوشپورہ، سوپور اور کپواڑہ جیسے علاقوں میں جنسی تشدد کے باوجود کشمیری خواتین ثابت قدم ہیں۔تنازعہ کشمیر کے محرکات کی محقق سوما اسلم نے کہا کہ بھاری تعداد میں بھارتی فوجیوں کی موجودگی، فوجی تنصیبات کے قیام اور ہراسانی نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں روزمرہ کی زندگی خاص طور پر خواتین اور بچوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *