ڈاکٹر نذر حافی
سپورٹ کشمیر انٹر نیشنل فورم
ہندوستان کے بارے میں آپ خود فیصلہ کریں! بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے حالیہ دنوں میں مسلمان خاتون کا زبردستی نقاب کھینچنے کا واقعہ زیادہ افسوسناک ہے یا اس وقوعے پر اترپردیش کے وزیر سنجے نشاد کا تبصرہ۔ دریں اثنا، ڈاکٹر نصرت نے بہار کے وزیر اعلیٰ کی حرکت کے خلاف سرکاری نوکری کی آفر ٹھکرا کر انسانی وقار اور اصول پر مبنی مزاحمت کی مثال قائم کر دی ہے۔ انہوں نے اپنے اس عمل سے یہ ثابت کیا ہے کہ انسانی اقدار کی بقا اور اخلاقی آزادی سب سے بڑی جیت ہے، اور انسان کو ہر صورت میں اپنی باوقار شخصیت کو زندہ رکھنا چاہیے۔
قابلِ ذکر ہے کہ ہندوستان میں انسانی تذلیل ایک منظم فوجی و سیاسی حربہ ہے۔ جہاں جہاں ہندوستان کی رِٹ ہے وہاں وہاں مرد ہو یا عورت کسی کی بھی عزّتِ نفس محفوظ نہیں۔ مردوں کا ذکر بعد میں پہلے یہ ملاحظہ فرمائیں کہ خواتین کی آبروریزی بھارت کے اندر چوتھا سب سے زیادہ عام جرم ہے۔ بھارت میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی، ہراسمنٹ اور عصمت دری کے بہت سارے واقعات رپورٹ ہی نہیں ہوتے چونکہ متاثرہ خواتین کو ہندوستانی معاشرے میں حقارت، شرمندگی، خوف ، دھمکیوں اور نفسیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ اگر آپ کا ضمیر زندہ ہے تو آپ کو یہ تسلیم کرنے میں تاخیر نہیں ہو گی کہ اخلاق باختگی میں ہندوستانی سیاستدانوں اور فوجیوں کا کوئی ثانی نہیں۔ ہندوستانی فوجی بھی اس میدان میں اپنے سیاستدانوں کی طرح صفِ اوّل کے مردہ ضمیر واقع ہوئے ہیں۔
بطورِ نمونہ ہم آپ کیلئے یہ ایک واقعہ پیش کئے دیتے ہیں۔23 فروری 1991ء وہ دن تھا جب ہندوستانی فوجیوں کے ہاتھوں انسانیت کی بدترین تذلیل ہوئی۔ مقبوضہ جمّوں و کشمیر میں کنن اور پوشپورہ کے گاؤں میں کریک ڈاؤن اور تلاشی کے نام پر ایسی قیامت ٹوٹی کہ جس نے تاریخ کے دامن پر سیاہ دھبہ ثبت کر دیا۔ 80 برس کی بوڑھی عورت سے لے کر 13 برس کی بچی تک، کوئی عورت اس درندگی سے محفوظ نہ رہی۔ہیومن رائٹس واچ کے مطابق 100 سے 150 کے درمیان کشمیری خواتین اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنیں۔ انصاف کے لیے صرف چالیس خواتین آگے بڑھ سکیں، جب کہ باقی کو سماجی دباؤ، خوف اور بدنامی کے اندیشوں نے خاموشی پر مجبور کر دیا۔ دہلی حکومت نے تحقیقات تو کیں، مگر ہمیشہ کی طرح نتیجہ یہی نکلا کہ واقعہ بے بنیاد قرار پایا اور مجرم بری ہو گئے۔
وقت گزرا، مگر ہندوستانی فوج کو شرم نہ آئی۔ 2014ء کے بعد کشمیری خواتین نے 23 فروری کو کشمیری خواتین کے مزاحمتی دن کے طور پر منانا شروع کیا تاکہ کنن پوشپورہ کو تاریخ کی گرد میں دفن نہ ہونے دیا جائے۔ یہ دن منانا اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ظلم اگر قانون کی وردی پہن لے تب بھی تاریخ کے کٹہرے سے بچ نہیں سکتا۔ انسانیّت کی اس توہین کا بھارت اور عالمی برادری نے تو کوئی نوٹس نہیں لیا تاہم 2014ء کے بعد سے کشمیری خواتین ہر سال 23 فروری کو “کشمیری خواتین کے مزاحمتی دن” کے طور پر مناتی ہیں، تاکہ مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں پیش آنے والے بھارتی مظالم اور اس کے بعد عصمت دری اور قتل کے دیگر واقعات کی یاد کو زندہ رکھا جا سکے۔اسی طرح 1990ء تا 1992ء کے درمیان دیگر مظالم نے انسانی ضمیر کو جھنجھوڑ دیا۔ اسی دوران نرس گرِجا ٹیکو اور ہندو خاتون بابلی رائنا جنسی تشدد اور سفاکی کا نشانہ بنیں۔ بھارت کی طرف سے خواتین کی تذلیل و اہانت کا یہ سلسلہ مسلسل کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ آپ بھارت کا میڈیا سوشل میڈیا ہی دیکھ لیں، جہاں جہاں بھارت کا تسلط ہے وہاں وہاں عورت بے آبرو ہے۔ اگست 2024 میں کولکتہ کے میڈیکل کالج میں 31 سالہ ڈاکٹر کو دوران خدمت عصمت دری کے بعد قتل کر دیا گیا۔ جولائی 2023 میں بہار کی پانچ سالہ معصوم بچی کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ فروری 2025 میں کیرالہ کی رہائشی نو عمر لڑکی نے انکشاف کیا کہ وہ گزشتہ پانچ سالوں سے تقریبا 60 مردوں کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہو چکی ہے۔
برسبیلِ تذکرہ یہ بھی عرض کرتے چلیں کہ بھارت کی مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں کٹھوعہ کے گاؤں رسانہ میں جنوری 2018ء کو ایک 8 سالہ بچی آصفہ بانو کے ساتھ ایک انتہائی دردناک واقعہ پیش آیا۔ مقدمے کی چارج شیٹ پیش کر دی گئی ۔ مقتول بچی خانہ بدوش قبیلے بکروال سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کی گمشدگی کے ایک ہفتے بعد اس کی لاش ملی۔ اس کے گاؤں والوں کو اس کی لاش ایک کلومیٹر دور ملی تھی۔ اس واقعے کی ذمہ داری جب اپریل 2018ء میں سات افراد پر عائد کی گئی تو یہ ملک گیر خبر بن گئی۔ پولیس کے مطابق کل سات افراد کی فہرست جاری کی گئی جن میں چار پولیس افسران بھی شامل تھے۔ ڈاکٹروں کے خیال میں بچی کو پہلے نشہ آور دوا دے کر پھر اس کے ساتھ جنسی زیادتی اور پھر قتل کیا گیا۔ فورنزک شواہد کے مطابق بچی کو ایک ملزم کے زیرِ نگرانی مندر میں کئی روز رکھا گیا۔ مندر سے ملنے والے بال بچی کے بال ثابت ہوئے۔ فورنزک معائنے سے پتہ چلا ہے کہ بانو کئی مرتبہ کئی مختلف مردوں نے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر اس کا گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کیا اور پھر اس کے سر پر بھاری پتھر مارا۔ متوفیہ کے باپ نے بتایا کہ جب جنازہ قبرستان پہنچا تو ہندو دائیں بازو کے افراد نے انھیں گھیر لیا اور وہاں تدفین کی صورت میں تشدد کی دھمکی دی۔ بعد ازاں متوفیہ کی نعش کو سات میل دور ایک اور گاؤں میں دفن کرنے لے جایا گیا۔ حسبِ سابق ا انسانیت کے دشمنوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ ہوئی۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ قابض بھارتی حکومت نے “rehabilitation policy” کے تحت مہاجر کشمیریوں کو واپس بلایا، مگر خواتین بار بار توہین و اہانت کا شکار ہوئیں۔ اپریل 2025ء میں پہلگام میں ہونے والے خود ساختہ حملوں کے بعد کئی خواتین کو بغیر قانونی کارروائی کے زبردستی پاکستان واپس بھیج دیا گیا۔
اسی توہین کا تسلسل اپریل 2017ء میں اس وقت سامنے آیا جب مقبوضہ کشمیر میں ایک 26 سالہ کشمیری نوجوان کو گرفتار کر کے بھارتی فوجی جیپ کے آگے بطورِ ڈھال باندھ دیا گیا۔ بہانہ فوجی دستوں پر پتھراؤ کا تھا لیکن ایک انسان کو بطورِ ڈھال ایسے لٹکایا گیا کہ اس طرح اگر کسی جانور کو بھی لٹکایا جاتا تو ساری دنیا میں کہرام برپا ہوجاتا۔ بین الاقوامی انسانی قوانین شہری کو انسانی ڈھال بنانے کی صریح ممانعت کرتے ہیں لیکن ہندوستان نے ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی قانون کو طاقت کے قدموں تلے روند ا ۔
اس سانحے کے بعد حکومتِ ہند نے متاثرہ نوجوان کے حق میں کھڑے ہونے کے بجائے، قابض فوج کا ہی ساتھ دیا۔ جموں و کشمیر انسانی حقوق کمیشن نے متاثرہ جوان کو دس لاکھ روپے معاوضہ دینے کا حکم دیا، مگر ریاستی حکومت نے اس پر عمل درآمد سے انکار کر دیا۔ ستم بالائے ستم یہ کہ جس فعل پر عالمی ضمیر نے سوال اٹھایا، اسی پر میجر لیتول گوگوئی کو چیف آف آرمی اسٹاف کا تعریفی کارڈ عطا کیا گیا، گویا انسانی تذلیل بھارتی سماج میں سیاستدانوں اور فوجیوں کیلئے قابلِ ستائش ہے۔ یہ ہندوستانی معاشرے کے زوال اور پستی کی انتہا ہے کہ وہاں کسی انسان کی توہین کو سیاستدانوں اور فوجی جوانوں کے لئے قابلِ فخر کارنامہ سمجھا جاتا ہے۔ دمِ تحریر مقبوضہ کشمیر میں سال 2025ء کے دوران بھی جعلی مقابلوں اور حراست کے نام پر کئی بے گناہ نوجوان لاپتہ، شہید یا معذور کیے گئے اور خواتین کی عصمت دری کے بھی کئی واقعات بھی پیش آئے ہیں۔
تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ مظلوم قومیں ہتک آمیز رویّوں کو فراموش نہیں کرتیں بلکہ اُنہیں ایندھن کی طرح اپنی مقاومت و مزاحمت کا حصہ بنا لیتی ہیں۔ وہ دماغ کی گہرائیوں میں چھپے زخموں کو کبھی نہیں بھولتیں ، کبھی نہیں بھولتیں۔۔۔ مظلوم اقوام اہانت کو نہ قبول کرتی ہیں اور نہ فراموش۔
بھارت کا مُردہ ضمیر سماج
