Input your search keywords and press Enter.

بھارت میں کشمیری شال فروشوں پر بڑھتے ہوئے حملے

سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم ـ الجزیرہ کی طرف سے شائع کردہ ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں کشمیری شال فروشوں کو نشانہ بنانے کے لئے حملوں، ہراساں کرنے اور ڈرانے دھمکانے کے واقعات میں پریشان کن اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو روزگار کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ذرائع کے مطابق الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے ہزاروں تاجر سردیوں میں کشمیری شال اور دستکاری کی دیگر مصنوعات فروخت کرنے کے لیے بھارت کے مختلف علاقوں کا سفر کرتے ہیں۔ تاہم حالیہ ہفتوں میں نفرت انگیزحملوں نے بہت سے لوگوں کو اپنی نقل و حرکت محدود کرنے یا گھر واپس آنے پر مجبور کیا ہے۔ رپورٹ میں ضلع کپواڑہ سے تعلق رکھنے والے 18 سالہ تابش احمد گنائی کے کیس کا حوالہ دیا گیا ہے جس پر بھارتی ریاست اتراکھنڈ کے علاقے وکاس نگر میں ایک ہندو دکاندار نے لوہے کی سلاخ سے حملہ کیا تھا۔ ایک وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور نوجوان کو مارتے ہوئے فرقہ پرستی کی باتیں کرتا ہے۔ متاثرہ نوجوان کے سر پر چوٹیں اور فریکچر ہوا ہے۔ تابش نے الجزیرہ کو بتایا کہ مجھے صرف ایک کشمیری مسلمان کے طور پر شناخت ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا۔

ایک اور شال فروش بلال احمد پر اتراکھنڈ کے ضلع کاشی پور میں اس وقت حملہ کیا گیا جب اس نے قوم پرست نعرہ لگانے سے انکار کر دیا۔ اس واقعے کے بعد اس نے حفاظتی خدشات کی وجہ سے اپنا کاروبار بند کر دیا اور کشمیر واپس چلا گیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب، ہماچل پردیش، ہریانہ اور بھارت کی دیگر شمالی ریاستوں میں بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے ہیں۔ ہماچل پردیش کے ضلع کانگڑا میں ایک ریٹائرڈ فوجی اہلکار نے سوشل میڈیا پر کشمیری پھیری والوں کو ہراساں کرنے کے لئے دھمکی آمیز اور توہین آمیز باتیں کیں۔ پولیس نے مبینہ طور پر مقدمہ درج کرنے کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی۔ الجزیرہ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 2019ء کے بعد سے جب مودی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی جزوی خودمختاری ختم کر دی اور اسے براہ راست وفاقی کنٹرول میں لایا، علاقے میں معاشی مشکلات مزید بڑھ گئیں جس کی وجہ سے بہت سے نوجوان کشمیر سے باہر روزگار تلاش کرنے پر مجبور ہو گئے۔

تاہم حالیہ مہینوں میں بڑھتے ہوئے حملوں اور ہراساں کرنے کے تقریباً 200 واقعات نے کشمیری تاجروں اور طلباء میں خوف کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ مقبوضہ جموں وکشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اور پی ڈی پی سربراہ محبوبہ مفتی سمیت سیاسی رہنمائوں نے بھارت بھر میں کشمیریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کشمیری تاجروں پر بار بار حملوں اور ہراساں کئے جانے سے نہ صرف ان کی روزی روٹی خطرے میں پڑتی ہے بلکہ اسے خوف کے ماحول کو بھی تقویت ملتی ہے جس سے بہت سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اترك تعليقاً

لن يتم نشر عنوان بريدك الإلكتروني. الحقول الإلزامية مشار إليها بـ *